مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 465 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 465

465 کے چاند کو ہلال کہتے ہیں۔يُسَمَّى الْقَمَرُ لِلَيْلَتَيْنِ مِنْ اَوَّلِ الشَّهْرِ هِلَالا۔۔۔۔۔قَالَ الْجَوْهَرِيُّ الْقَمَرُ بَعْدَ ثَلَاثٍ إلى آخِرِ الشَّهْرِ۔قَالَ ابْنُ السَّيْدَةِ وَ الْقَمُرُ يَكُونُ فِى لَيْلَةِ الثَّالِثَةِ مِنَ الشَّهْرِ۔(لسان العرب زیر لفظ قمر) کہ جو ہری کہتا ہے کہ قمر وہ ہوتا ہے جو دوسری رات کے بعد کا چاند ہو اور اسی طرح ابن سیدہ نے بھی کہا ہے کہ مہینہ کی تیسری رات کو چاند قمر ہو جاتا ہے۔وَهُوَ قَمَرٌ بَعْدَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَى اخِرِ الشَّهْرِ وَأَمَّا قَبْلُ ذَالِكَ فَهُوَ هِلَالٌ۔“ " ( منجد زير لفظ قمر ) کہ تین راتوں کے بعد چاند قمر ہو جاتا ہے اور اس سے پہلے جو چاند ہوتا ہے اس کو ہلال کہتے ہیں۔پس حدیث میں اول اور درمیانے سے مراد وہی ہو سکتی ہے جو ہم نے بیان کی ہے۔یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ اس کا پورا ہونا خود اس کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔۳۔اس حدیث کو دار قطنی نے نقل کیا ہے جو خود ایک بڑا عالم اور علم حدیث میں لگا نہ تھا۔جیسا کر ضمن نمبر ۱۲ میں نخبۃ الفکر کے حوالہ سے بتایا گیا ہے۔(شرح نخبة الفكر للقارى الموضوع جزء نمبر صفحه ۴۳۶) نوٹ :۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس حدیث کی صحت کے متعلق خوب مفصل بحث تحفہ گولڑویہ میں تحریر فرما دی ہے۔وہاں سے دیکھی جائے۔چاند کو یہ گرہن ۲۱ / مارچ ۱۸۹۴ء کولگا۔دیکھو اخبار آزادم رمئی ۱۸۹۴ء۔نیز سول اینڈ ملٹری گزٹ ۶ را پریل ۱۸۹۴ء۔۳۔یہ حدیث مندرجہ ذیل کتب میں پائی جاتی ہے۔جس سے اس کی صحت کا پتہ چلتا ہے۔(۱) دار قطنى كتاب العيدين باب صفة الصلوة الخسوف (۲) فناوئی حدیثیہ حافظ ابن حجرمکی۔مصنفہ علامہ شیخ احمدشہاب الدین ابن حجر ہیتمی مطلب في علامة خروج المہدی وان القحطانی بعد المہدی۔(۳) احوال الآخرة حافظ محمد لکھو کے صفحہ ۲۳ مطبوعہ ۱۳۰۵ھ۔(۴) آخری گت مصنفه مولوی محمد رمضان حنفی۔مجتبائی مطبوعہ ۱۲۷۸ھ