مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 460
460 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی آمد تصور کی جائے گی۔(۲) اس کے ماننے والے صحابہ کے رنگ میں رنگین ہو کر صحابی کہلانے کے مستحق ہونگے۔(۳) وہ شخص فارسی الاصل ہو گا۔(۴) وہ ایسے زمانہ میں مبعوث ہوگا۔جبکہ اسلام دنیا سے اٹھ جائے گا اور قرآن کے الفاظ ہی الفاظ دنیا میں باقی رہ جائیں گے۔(۵) اس کا کام کوئی نئی شریعت لانا نہ ہوگا بلکہ قرآن مجید کو ہی دوبارہ دنیا میں لا کر شائع کرے گا اور اسی کی طرف لوگوں کو بلائے گا۔یا درکھنا چاہیے کہ اس حدیث میں ہرگز یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ شخص حضرت سلمان فارسی کی نسل میں سے ہو گا بلکہ بتایا یہ گیا ہے کہ ھو لاء ان میں سے ہوگا۔یعنی قوم فارس میں سے یعنی فارسی الاصل ہو گا۔اگر یہ کہنا ہوتا کہ وہ سلمان فارسی کی نسل میں سے ہوگا تو بجاۓ مَنْ هَؤُلَاءِ کہنے کے مَنْ هَذَا فرماتے کہ اس میں سے ہو گا۔چنانچہ اسی حدیث کی دوسری روایت میں جو فردوس الاخبار دیلمی میں ہے۔اس موقع پر یہ الفاظ ہیں : فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِيْنَ ذَكَرَهُمُ اللَّهُ فَضَرَبَ عَلَى فَخُذِ سَلْمَانَ فَقَالَ قَوْمُ هَذَا (دیلمی صفه ۱۶۲ نسخه موجوده کتب خانہ آصفیہ نظام دکن ) صحابہ نے پوچھا۔یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے وَ آخَرِينَ مِنْهُمْ میں ذکر فرمایا ہے؟ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسی کی ران پر ہاتھ مارا اور فرمایا کہ اس کی قوم سے، پس مسیح موعود کا فارسی الاصل ہونا ضروری ہے نہ کہ سلمان کی نسل سے ہونا۔دوسری بات جو قابل غور ہے۔وہ یہ ہے کہ حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسیح موعود کی بعثت کا زمانہ بتا دیا ہے۔"وَلَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ مُعَلَّقًا بِالقُرَيَّا “ گویا جب ایمان دنیا سے اٹھ جائے گا یعنی عملی طور پر مسلمان زوال پذیر ہورہے ہو نگے۔6671 ، پس اس حدیث سے مراد حضرت امام ابو حنیفہ ہر گز نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ دوسری صدی کے قریب پیدا ہوئے۔اور وہ زمانہ عروج اسلام کا زمانہ تھا لیکن یہ اس زمانہ کے متعلق پیشگوئی ہے جس کے متعلق فرمایا کہ ایمان اٹھ جائیگا اوراس زمانہ کے متعلق نواب نورالحسن خاں صاحب لکھتے ہیں کہ اب اسلام کا صرف نام قرآن کا فقط نقش باقی رہ گیا ہے۔“ اقتراب الساعه صفحه ۱۲ مطبع مفید عام الکا یہ فی آگرہ ۱۳۰۱ھ ) نیز ” سچی بات تو یہ ہے کہ ہم میں سے قرآن مجید بالکل اٹھ چکا ہے۔“ (اہلحدیث امرتسر ارجون ۱۹۱۲) غرضیکہ یہی وہ زمانہ ہے جو خود پکار پکار کر کہ رہا تھا کہ کسی مصلح ربانی کی ضرورت ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ