مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 459 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 459

459 بارہویں دلیل:۔66 وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الجمعة ) كه أُخَرِينَ “ میں بھی جو ابھی تک صحابہ سے نہیں ملے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رسول کی بعثت مقدر ہے۔سورۃ جمعہ کی اس آیت کو پہلی آیات کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بعثتیں مقرر کی گئی ہیں۔پہلی بعثت آپ کی امیین میں ہوئی اور دوسری بعثت آخرین کی جماعت میں ہوگی۔اس کی تفصیل خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر فرماتے ہوئے بتائی ہے۔چنانچہ بخاری شریف میں ہے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِندَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْزِلَتْ عَلَيْهِ سُوْرَةُ الْجُمُعَةِ وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ قَالَ قُلْتُ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يُرَاجِعُهُ حَتَّى سَأَلَ ثَلَاثًا وَ فِيْنَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ وَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ ثُمَّ قَالَ لَوْ كَانَ الْإِيْمَانُ عِندَ الثَّرَيَّا لَنَالَهُ رِجَالٌ أَوْ رَجُلٌ مِنْ هَؤُلَاءِ۔(بخاری کتاب التفسير سورة جمعه باب قوله و الخريْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ - وتجريد البخاری مکمل معه عربی ترجمہ شائع کردہ لاہور فیروز الدین اینڈ سنز جلد ۲ صفحہ ۳۷۔نیز مشکواۃ کتاب المناقب باب جامع المناقب الجمعة زير آيت ۴) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ سورۃ جمعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی جس میں یہ آیت بھی تھی۔وَ اخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ حضور سے دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ ! یہ کون لوگ ہیں۔جن کا اس آیت میں ذکر ہے یعنی آخرِينَ مِنْهُمْ سے کون لوگ مراد ہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔حتی کہ حضور سے تین دفعہ پوچھا گیا۔اسی مجلس میں حضرت سلمان فارسی بھی بیٹھے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ حضرت سلمان پر رکھ کر فرمایا۔کہ اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوگا۔تو ان (اہلِ فارس) میں سے ایک شخص یا ایک سے زائد اشخاص اس کو پالیں گے۔اس حدیث نے قرآن مجید کی اس آیت کی بالکل صاف اور واضح تفسیر کر دی ہے۔اس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ (۱) اس میں کسی شخص کی بعثت کی پیشگوئی کی گئی ہے جس کی آمد گویا