مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 425 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 425

425 تو اس کا بھی یہی جواب ہے کہ اگر تم نہیں جانتے تو ابو جہل اور ابولہب تو جانتے تھے۔ہم جب ان کی گواہی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا بے عیب اور پاک ہونا ثابت کر سکتے ہیں تو صداقت واضح ہے۔بعینہ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت آپ کی قبل از دعوئی زندگی کو دیکھنے والوں کی شہادت سے ثابت ہوتی ہے۔نوٹ :۔بعض مولوی جب کوئی جواب نہیں دے سکتے اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبل از دعوئی زندگی پر کوئی اعتراض کر سکتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ قبل از دعوئی زندگی کا پاک ہونا دلیل صداقت نہیں کیونکہ حضرت مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ عمدہ چال چلن اگر ہو بھی تاہم حقیقی پاکیزگی پر کامل ثبوت نہیں ہوسکتا۔شاید در پردہ کوئی اور اعمال ہوں۔الجواب:۔(۱) یا درکھنا چاہیے کہ یہ محض دھوکہ ہے اور اس کا ازالہ خود آیت فَقَدْ لَبِثْتُ فيكُمُ عُمُرًا (یونس (۱۷) میں موجود ہے یعنی یہ تو ممکن ہے کہ کوئی شخص در حقیقت پاک نہ ہو بلکہ در پردہ کوئی اور اعمال ہوں اور کچھ عرصہ تک وہ لوگوں کی نظر میں پاک باز بنا رہے۔جیسا کہ حضرت اقدس نے فرمایا ہے لیکن یہ ممکن نہیں کہ کوئی جھوٹا مدعی نبوت ہو اور درحقیقت اس کی زندگی ناپاک ہو اور وہ ایک لمبے عرصہ تک جو چالیس برس تک ممتد ہو پاک باز بنار ہے۔چنانچہ قرآن مجید کی آیت میں یوں نہیں فرمایا کہ " فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ “ کہ میں تم میں رہا ہوں بلکہ فرمایا فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرا یعنی میں تم میں ایک لمبی عمر گزار چکا ہوں۔پس لمبے عرصہ ( محمرًا ) تک اس کا پاک باز ہونا یقینا حقیقی راست بازی کی دلیل ہے۔(۲) ہم نے یہ نہیں کہا کہ محض عمدہ چال چلن حقیقی پاکیزگی پر گواہ ہے اور نہ ہم نے یہ کہا کہ ظاہری راست بازی کے لئے صرف یہ دعوی کافی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے احکام پر چلتا ہے بلکہ ہماری بحث تو ایک مدعی الہام کی قبل از دعوی زندگی کی پاکیزگی کے متعلق ہے۔ہم نے یہ دلیل نہیں دی کہ جس شخص کو عام لوگ راست باز کہیں وہ ضرور حقیقی طور پر سچا ہوتا ہے۔بلکہ ہم نے تو یہ کہا ہے کہ مدعی نبوت کی دعویٰ سے پہلی زندگی پر دشمن سے دشمن کو بھی کوئی صحیح اعتراض کرنے کا موقع نہیں ملتا۔چنانچہ یہی حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے کہ آپ کے مخالفین کو بھی حضور کے دعوی سے پہلی زندگی پر اعتراض کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔پس سوال عام راستباز کا نہیں بلکہ مدعی وحی و الہام کی قبل از دعویٰ پاکیزہ زندگی کا ہے۔