مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 424
424 کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ میں دعویٰ سے قبل گمنام تھا۔مجھے کوئی نہ جانتا تھا وغیرہ وغیرہ اور ان عبارات سے یہ دھوکا دیتے ہیں کہ جب آپ کو ایک شخص بھی نہیں جانتا تھا پھر آپ کی پہلی زندگی پر اعتراض کون کرے؟ اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مندرجہ ذیل عبارت پیش کرنی چاہیے:۔اور میں اپنے باپ کی موت کے بعد محروموں کی طرح ہو گیا۔اور میرے پر ایک ایسا زمانہ گزرا ہے کہ بجز چند گاؤں کے لوگوں کے اور کوئی مجھ کو نہیں جانتا تھا۔یا کچھ اردگرد کے دیہات کے لوگ تھے کہ روشناس تھے اور میری یہ حالت تھی کہ اگر میں کبھی سفر سے اپنے گاؤں میں آتا تو کوئی مجھے نہ پوچھتا کہ تو کہاں سے آیا ہے اور اگر میں کسی مکان میں اتر تا تو کوئی سوال نہ کرتا کہ تو کہاں اترا ہے اور میں اس گمنامی اور اس حال کو بہت اچھا جانتا تھا اور شہرت اور عزت اور اقبال سے پر ہیز کرتا تھا۔پھر میرے رب نے مجھے عزت اور برگزیدگی کے گھر کی طرف کھینچا اور مجھے اس بات کا علم نہ تھا کہ وہ مجھے مسیح موعود بنائے گا اور اپنے عہد مجھ میں پورے کرے گا اور میں اس بات کو دوست رکھتا تھا کہ گمنامی کے گوشہ میں چھوڑا جاؤں ریویوار دو فروری ۱۹۰۳ء جلد ۲ نمبر ۲ صفحه ۵۸،۵۷) ۲۔اگر معترض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبل از دعوئی زندگی کو نہیں جانتا تو مولوی محمد حسین بٹالوی تو جانتا تھا جس نے لکھا کہ:۔مؤلف براہین احمدیہ کے حالات اور خیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ہمارے معاصرین میں سے ایسے واقف کم نکلیں گے۔مؤلف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل کے (جب ہم قطبی و شرح ملا پڑھا کرتے تھے ) ہمارے ہم مکتب بھی (اشاعۃ السنہ جلدے نمبر ۶)۔پھر اسی طرح مولوی سراج الدین صاحب ( جو مولوی ظفر علی صاحب آف ”زمیندار“ کے والد تھے ) نے شہادت دی کہ:۔مرزا غلام احمد صاحب ۱۸۶۰ء وا۱۸۶ء کے قریب ضلع سیالکوٹ میں محرر تھے۔اس وقت آپ کی عمر ۲۲ ۲۳۰ سال کی ہوگی۔ہم چشم دید شہادت سے کہتی ہیں کہ جوانی میں نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے۔“ زمیندار ۸/ جون ۱۹۰۸ء) ۴۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی یہ دلیل آریوں کے سامنے بیان کی جاتی ہے تو وہ بھی یہی جواب دیتے ہیں کہ ہم ان کی قبل از دعوئی زندگی کونہیں جانتے اس پر اعتراض کیا کریں؟