مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 411
411 شاہجہانی) یعنی جملہ ا<mark><mark>نبی</mark></mark>اء علیہم السلام میں سے سوائے آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کے اور کوئی ایسا <mark><mark>نبی</mark></mark> <mark>نہی</mark>ں ہے جس کے تابع کوئی دوسرا <mark><mark>نبی</mark></mark> ہو اور یہ امت <mark>محمد</mark>یہ کی ایک بہت بڑی فضیلت ہے۔گویا جس چیز کو احراری معترض کی خود ساختہ اصطلاح کے نام سے نا قابل برداشت توہین قرار دیتا ہے علماء گذشتہ کے نزدیک یہی <mark><mark>نبی</mark></mark> کریم صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم کی سب سے بڑی فضیلت ہے اور امت <mark>محمد</mark>یہ کے شرف اور مرتبہ کو ثابت کرنے والی ہے۔حضرت موسی کا جواب :۔(۶) تو رات میں ہے کہ حضرت موسی کے زمانہ میں بھی ”شرک فی الرسالة“ کی جھوٹی ”غیرت کا مظاہرہ کیا گیا تھا مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کا وہی جواب دیا جو آج ہم احرایوں کو دیتے ہیں کہ تم خدا تعالیٰ کے انعام کے دروازے بند کرنے والے کون ہو؟ ملاحظہ ہو۔تو رات میں ہے :۔تب موسی نے باہر جا کر خداوند کی با تیں قوم سے کہیں اور بنی اسرائیل سے ستر شخص اکٹھے کئے اور ا<mark>نہی</mark>ں خیمہ کے آس پاس کھڑا کیا۔تب خداوند بدلی میں ہو کر اترا اور اس سے بولا اور اس کی روح میں سے جو اس میں تھی کچھ لے کے ان ستر بزرگ شخصوں کو دی۔چنانچہ جب روح نے ان میں قرار پکڑا تو وہ <mark>نبوت</mark> کرنے لگے اور بعد اس کے پھر نہ کی اور ان میں سے دو شخص خیمہ گاہ ہی میں رہے تھے جن میں سے ایک کا نام الداد تھا دوسرے کا نام میداد۔چنانچہ روح نے ان میں قرار پکڑا اور وہ خیمہ گاہ ہی میں <mark>نبوت</mark> کرتے تھے۔تب ایک جوان نے دوڑ کے موسی کو خبر دی کہ الدادا اور میداد خیمہ گاہ میں <mark>نبوت</mark> کرتے ہیں۔سو مولی کے خادم نون کے بیٹے یشوع نے جو اس کے خاص جوانوں میں سے تھا۔موسیٰ سے کہا کہ اے میرے خداوند موسیٰ ! ا<mark>نہی</mark>ں منع کر۔موسی نے اسے کہا کیا تجھے میرے لئے رشک آتا ہے کاش کہ خداوند کے سارے بندے <mark><mark>نبی</mark></mark> ہوتے اور خداوند ان میں اپنی روح ڈالتا (گنتی باب ۱۱ آیت ۲۴ تا ۳۰) غیر احمدی:۔یہ تو رات کا حوالہ ہے یہ بطور دلیل پیش <mark>نہی</mark>ں ہو سکتا۔جواب:۔قرآن میں ہے:۔فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ فَتَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَبَ مِنْ قَبْلِكَ (يونس : ۹۵) صحیح حدیث میں ہے ”حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَ لَا هَرَجَ ( بخاری۔ترندی۔مسند احمد حنبل۔ابوداؤد بحوالہ جامع الصغیر امام سیوطی جلد اصفحہ ۱۲۶ مطبوعہ مصر باب البساء و