مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 408 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 408

408 نا قابل قبول راوی ہے حاتم بن اسمعیل راوی کے متعلق نسائی کہتے ہیں کہ لَيْسَ بِالْقَوِيّ (تھذیب التهذيب زير لفظ حاتم بن اسمعیل راوی) کہ یہ راوی ثقہ نہیں تھا۔چوتھے راوی بکیر بن مسمار الزہری کے متعلق لکھا ہے۔قَالَ الْبُخَارِيُّ فِيْهِ نَظَرٌ (تهذيب التهذيب از حافظ ابن حجر عسقلانی زیر لفظ بکیر و میزان الاعتدال زیر لفظ بکیر بن مسمار الزهرى ) امام بخاری کہتے ہیں کہ اس راوی کے ثقہ ہونے میں کلام کیا جاتا ہے لہذا یہ روایت بھی حجت نہیں ہے۔(ب) لَا نُبُوَّةَ بَعْدِی کے الفاظ ایک اور روایت میں بھی آتے ہیں۔جس کو ابونعیم نے حضرت معاد سے روایت کیا ہے لیکن امام شوکانی فرماتے ہیں کہ یہ روایت موضوع ہے رَوَاهُ أَبُو نَعِيمٍ عَنْ مَعَاذٍ مَرْفُوعًا وَهُوَ مَوْضُوعَ افَتُهُ بَشَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيِّ (الـفـوائد المجموعه في احاديث الموضوعة از امام شوکانی مطبوعہ محمدی پر لیس صفحہ ۱۱۶) کہ اس کا راوی بشر بن ابراہیم وضاع ہے اور یہ روایت جعلی ہے۔تیرھویں حدیث : كُنتُ اَوَّلَ النَّبِيِّينَ فِى الْخَلْقِ وَاخِرَهُمُ فِي الْبَعْثِ“ ( موضوعات کبیر از ملا علی قاری صفحه ۱۶ اودر منثور از جلال الدین سیوطی جزو ۵ صفحه ۱۸۴ تفسير سورة الاحزاب زیر آیت نمبر ۹،۸) جواب:۔یہ روایت بھی موضوع ہے لکھا ہے:۔قَالَ الصَّغَانِيُّ هُوَ مَوْضُوعٌ وَكَذَا قالَ ابْنُ تَيْمِيَّةَ (الفوائد المجموعه فی احادیث الموضوعه از امام شوکانی مطبوعه محمدی پریس صفحه ۱۰۸) که صفانی اور امام ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ روایت موضوع ہے۔چودھویں حدیث : لا يُبْعَثُ بَعْدِى نَبِيًّا ( الفوائد المجموعه از امام شوکانی مطبوعه محمدی پریس صفحہ ۱۵۲) کہ اللہ تعالیٰ میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہیں کرے گا۔جواب :۔یہ رویت بھی جھوٹی اور جعلی ہے۔امام شوکانی اس روایت کو نقل کر کے لکھتے ہیں۔هُوَ مَوْضُوع (الفوائد المجموعه فی احادیث الموضوعة از امام شوکانی مطبوعه محمدی پر لیس صفحه ۵۲ اسطر نمبر ۱۰) کہ یہ روایت جعلی ہے۔پس غیر احمدی علماء کی طرف سے جس قدر روایات اپنی تائید میں پیش کی جاتی ہیں ان میں سے ایک بھی اس امر کے اثبات کے لیے کافی نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی پیروی اور غلامی میں آپ کی امت میں سے کوئی غیر تشریعی نبی نہیں آسکتا۔پندرہویں حدیث: إِنَّ جِبْرِيلَ لَا يَنْزِلُ إِلَى الْأَرْضِ بَعْدَ مَوْتِ النَّبِيِّ صَلْعَمُ