مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 405
405 اس شعر کا ترجمہ مولوی ذوالفقار علی صاحب دیو بندی جو حماسہ کے شارح ہیں یوں کرتے ہیں۔ربیع ابن زیاد نے میری دوستی اور شکر دور بیٹھے ایسے شخص کے لیے جو بنی غالب میں آخری یعنی ہمیشہ کے لیے عدیم المثل ہے خرید لیا ہے گویا آخر کا ترجمہ ہمیشہ کے لیے عدیم المثل ہوا۔پس انہی معنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی آخر الانبیاء یعنی ہمیشہ کے لئے عدیم النظیر ہیں۔نمبر ۳۔امام جلال الدین سیوطی نے امام ابن تیمیہ کے متعلق لکھا ہے۔سَيِّدُنَا الْإِمَامُ الْعَالِمُ الْعَلَّامَةُ۔اِمَامُ الْائِمَّةِ قُدْوَةُ الْأُمَّةِ عَلَّامَةُ الْعُلَمَاءِ وَارِتْ الْأَنْبِيَاءِ اخِرُ الْمُجْتَهِدِينَ الاشباه والنظائر جلد ۳ صفحه ۳۱ مطبوعہ حیدر آباد و محمدیہ پاکٹ بک صفحه ۵۳۴ ایڈیشن اپریل ۱۹۸۹ء) گویا امام ابن تیمیہ آخر المجتہدین تھے کیا ان کے بعد کوئی اور مجتہد نہیں ہوا ؟ اردو:۔ڈاکٹر سر محمد اقبال اپنے استاد داغ کا مرثیہ لکھتے ہوے کہتے ہیں۔چل بسا داغ آہ میت اس کی زیب دوش ہے آخری شاعر جہان آباد کا خاموش ہے گویا داغ دلی کا آخری شاعر تھا۔اسی مرثیہ میں آگے چل کر ڈاکٹر صاحب موصوف کہتے ہیں چل دیئے ساقی جو تھے مہ خانہ خالی رہ گیا یاد گار بزم دتی ایک حالی رہ گیا بانگ درا از ڈاکٹر علامہ محمد اقبال صفحه ۵۷) گویا داغ کے بعد حاکی بزم دتی کی یادگار ہیں۔نیز داغ کے بعد بھی دلی میں سینکڑوں شاعر ہوئے ہیں جلیل وغیرہ ان میں سے ممتاز ہیں۔نویں حدیث: اَنَا الْمُقَفّى (صحیح مسلم کتاب الفضائل باب فی اسمائه صلى الله علیہ وسلم) مقفی کے معنی ہیں آخری نبی۔الجواب:۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بے شک مقفی ہیں مگر منظمی کا ترجمہ آخری نبی جو غیر احمدی علماء کرتے ہیں وہ قطعاً غلط ہے علامہ ابن الانباری فرماتے ہیں۔مَعْنَاهُ الْمُتَّبَعُ لِلنَّبِيِّينَ المال الا کمال شرح مسلم جلد ۲ صفحہ ۱۴۳) کہ منتفی کے معنے ہیں کہ وہ جس کی انبیاء اتباع کریں گویا یہ نام بذات خود اس امر کا مقتضی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انبیاء آویں جو آپ کی پیروی اور اتباع کریں اس کو انقطاع نبوت کی دلیل کے طور پر پیش کرنانا دانی ہے۔دسویں حدیث:۔یعفور نامی گدھے کا عقیدہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی