مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 403
403 که الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِی کسی صحابی یا بعد میں آنے والے شخص نے بطور تشریح بڑھا دیا ہے اور ابن عربی نے لکھا ہے عاقب وہ ہوتا ہے جو کسی اچھی بات میں اپنے سے پہلے کا قائم مقام ہو۔ضروری نوٹ:۔غیر احمدی عُلَمَاءُ هُمُ نے ہمارے اس زبر دست جواب کی تاب نہ لا کر تر مندی کے نئے ایڈیشن میں اس حدیث کے الفاظ میں یہودیانہ مماثلت کو پورا کرنے کے لیے تحریف کر دی ہے۔چنانچہ ترمندی مجتبا ئی جو ۱۳۶۶ھ یا اس سے قبل چھپی ہے اس میں وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نسی کے الفاظ ہیں ( یعنی عاقب وہ جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو ) مگر بعد کی اسی مطبع کی چھپی ہوئی ترندی میں الفاظ یوں ہیں الْعَاقِبُ الَّذِى لَيْسَ بَعْدِي نَبِيٌّ ) که عاقب ہو کہ میرے بعد کوئی بنی نہیں)۔گویا بَعْدَه غائب کے صیغے کو بدل کر بعدی متکلم کا صیغہ بنا دیا ہے تا کہ متکلم کے صیغے سے یہ ثابت ہو سکے کہ یہ الفاظ بھی آنحضرت ہی کے ہیں۔کسی دوسرے شخص کے نہیں۔مگر خدا کے فضل سے ان کی چوری حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خادموں نے پکڑ لی۔آٹھویں حدیث : إِنِّي أَخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ " (سنن ابن ماجه کتاب الفتن باب فتنة الدجال و خروج عیسی ابن مريم۔و كتاب الزهد باب صفت امة محمد صلى الله عليه وسلم) جواب نمبر :۔یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ ابن ماجہ نے جن راویوں سے اسے نقل کیا ہے ان میں سے عبدالرحمن بن محمد الحار بی اور اسمعیل بن رافع ( ابو رافع ) ضعیف ہیں۔عبدالرحمن بن محمد کے متعلق لکھا ہے۔قَالَ ابْنُ مَعِينٍ يَرُوِيُّ الْمَنَاكِيْرَ عَنِ الْمَهْجُولِينَ قَالَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدِ بْنِ حَنْبَلٍ عَنْ أَبِيهِ اَنَّ الْمُحَارِبِيَّ كَانَ يُدَرِّسُ قَالَ ابْنُ سَعْدٍ كَانَ كَثِيرُ الْغَلَطِ۔(میزان الاعتدال از ابو عبد الله محمد بن احمد عثمان الذھمی ۷۴۸ ھ زیر لفظ عبدالرحمن بن محمد المحاربي, تهذيب التهذيب زير لفظ عبدالرحمن بن محمد المحاربی) کہ ابن معین کہتے ہیں کہ یہ راوی مجہول راویوں سے نا قابل قبول روایات بیان کیا کرتا تھا۔امام احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ یہ راوی تدلیس کیا کرتا تھا۔ابن سعد کہتے ہیں کہ یہ راوی بہت غلط روایات کیا کرتا تھا۔اس کا دوسرا راوی ابورافع اسمعیل بن رافع بھی ضعیف ہے کیوں کہ لکھا ہے:۔ضَعْفَهُ أَحْمَدُ وَ يَحْيِي وَ جَمَاعَةٌ قَالَ الدَّارُ قُطْنِى مَتَرُوكَ الْحَدِيثِ قَالَ ابْنُ عَدِي أَحَادِيْثُهُ كُلُّهَا فِيْهِ نَظَرْ ( میزان الاعتدال از ابوعبد الله حمد بن احمد عثمان الذهمی زیر لفظ ابورافع اسمعیل بن رافع جلد اصفه۱۰۵ حیدر آبادی)