مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 402
402 ساتویں حدیث : أَنَا الْعَاقِبُ الَّذِى لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ (ترمذى كتاب الادب باب ما جاء فی اسماء النبی) و جواب نمبر 1:۔یہ روایت قابل حجت نہیں۔کیوں کہ اس کا ایک راوی سفیان بن عیینہ ہے جس نے یہ روایت زہری سے لی ہے۔سفیان بن عیینہ کے متعلق لکھا ہے۔كَانَ يُدَلِّسُ۔۔۔۔قَالَ أَحْمَدُ يُخْطِئُ فِي نَحْوِ مِنْ عِشْرِينَ حَدِيثٍ عَنِ الزُّهْرِى۔۔۔۔عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعَيْدِ الْقَطَّانُ قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ اخْتَلَطَ سَنَةِ سَبْعٍ وَّ تِسْعِيْنَ وَ مِائَةٍ فَمَنْ سَمِعَ مِنْهُ فِيْهَا فَسَمَاعُهُ لَا شَيْءٌ - (ميزان الاعتدال زير لفظ سفيان بن عيينة ( يعنی یہ راوی تدلیس کیا کرتا تھا امام احمد کہتے ہیں کہ زہری سے بیسیوں روایات میں اس نے غلطی کی ہے ( یہ عاقب والی روایت بھی اس نے زہری ہی سے لی ہے ) یحیی بن سعید کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ سفیان بن عیہ کی سن ۱۹۷ھ میں عقل ماری گئی تھی۔پس جس نے اس کے بعد اس سے روایت لی ہے وہ بے حقیقت ہے اس روایت کے دوسرے راوی زہری کے متعلق لکھا ہے کہ " كَانَ يُدَرِّسُ فِي النَّادِرِ ( ميزان الاعتدال زیر لفظ محمد بن مسلم زهری ) کہ یہ راوی کبھی کبھی تذلیں بھی کر لیا کرتا تھا پس اس روایت میں بھی اسی راوی نے ازراہ تدلیس وَالْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِی کے الفاظ بڑھا دیئے کیونکہ شمائل ترمذی شریف مجتبائی میں جہاں یہ حدیث ہے وہاں ” وَ الْعَاقِبُ الَّذِي لَيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ“ کے الفاظ کے اوپر بین السطور میں لکھا ہے ” هذَا قَولُ الزَّهْرِی“ کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نہیں بلکہ علامہ زہری کا اپنا قول ہے۔(شمائل ترمذی مجتبائی مطبوعه ۱۳۴۲ھ صفحه ۲۶ باب ما جاء في اسماء رسول الله ) نمبر ۲:۔’عاقب عربی لفظ ہے اور صحابہ جن کے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کلام فرما رہے تھے وہ بھی عرب تھے پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ترجمہ کرنے کی کیا ضرورت تھی یہ ترجمہ ہی صاف بتلا رہا ہے کہ یہ ترجمہ کسی ایسے آدمی نے کیا ہے جو اس حدیث کو ان لوگوں کے سامنے بیان کر رہا تھا جو عرب نہ تھے۔نمبر ۳:۔چنانچہ حضرت ملا علی قاری نے صاف طور پر فرما دیا ہے الظَّاهِرُ أَنَّ هَذَا تَفْسِيرٌ لِلصَّحَابِي أَوْ مَنْ بَعْدَهُ وفِي شَرْحِ مُسْلِمٍ قَالَ ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ الْعَاقِبُ الَّذِي يُخْلِفُ فِي الْخَيْرِ مَنْ كَانَ قَبْلَهُ ( مرقاۃ شرح مشکوۃ جلد ۵ صفحه ۳۷۶ و بر حاشیه مشکو مجتبائی باب اسماء النبی ) کہ صاف ظاہر ہے