مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 399
399 پس جہاں تک راویوں کا تعلق ہے یہ روایت قابل استناد نہیں۔۵:۔اگر صحیح تسلیم کر لی جائے تو یا درکھنا چاہیے کہ مسلم کی شرح کمال الا کمال میں لکھا ہے۔هذَا الْحَدِيثَ ظَهَرَ صِدْقُهُ فَإِنَّهُ لَوْ عُدَّ مَنْ تَنَبَّاً مِنْ زَمَنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْآنَ لَبَلَغَ هَذَا الْعَدَدُ وَ يَعْرِفُ ذَلِكَ مَنْ يُطَالِعُ التَّارِيخَ - (اکمال الا کمال جلدے صفحہ ۴۵۸ مصری ) کہ تمیں دجال آچکے ہیں۔اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک کے تمام نبوت کا جھوٹا دعوی کرنے والوں کو گنا جائے تو یہ تعداد پوری ہو چکی ہے اور اس بات کو وہ شخص جو تاریخ کا مطالعہ کرے جان لے گا۔اس کتاب کے لکھنے والا ۸۲۸ ھ میں فوت ہوا۔گویا چار سو سال گزرے کہ تمیں دجال آچکے J۔۔۔۔۔۔ہیں مگر مولوی اب تک تمیں کے عدد کو طویل کئے جارہے ہیں۔:۔نواب صدیق حسن خانصاحب آف بھوپال حضرت مرزا صاحب کے دعوئی سے قبل اپنی کتاب حجج الکرامہ میں تحریر فرماتے ہیں: کہ دجالوں کی تعداد پوری ہو چکی ہے چنانچہ ان کی اصل عبارت فارسی حسب ذیل ہے:۔بالجمله آنچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اخبار بوجود دجالین کذابین در یں امت فرموده بود، واقع شد بیج الکرامه از نواب صدیق حسن خان صاحب مطبع شاہجہانی بھوپال) کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اس امت میں دجالوں کی آمد کی خبر دی تھی وہ پوری ہو کر تعداد مکمل ہو چکی ہے۔غرضیکہ خواہ ۲۷ د جالوں کی آمد کی پیشگوئی ہو۔خواہ نہیں کی بہر حال وہ تعداد پوری ہو چکی ہے۔غیر احمدی :۔حضرت مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ قیامت تک یا دنیا کے اخیر تک یہ دجال آئیں گے۔( انجام آتھم۔روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۴۶، ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۱۹۷) تم اس تعداد کا اب ہی پورا ہونا بتاتے ہو؟ الجواب:۔اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک قیامت سے پہلے ہی ان دجالوں نے آنا تھا اور اکمال الا کمال اور حج الکرامہ کے حوالوں میں بھی یہی درج ہے۔ان میں سے ایک بھی ایسا دجال نہیں جو قیامت کے بعد ہوا ہو۔مثلاً ہم کہیں کہ زید مرنے سے پہلے دو بیویاں کرے گا۔اب اگر زید میں سال کی عمر میں دو بیویاں کرلے تو تمہارے جیسا کوئی عقلمند فورا کہ دے گا کہ چونکہ ابھی تک زید مرا نہیں۔لہذا ثابت ہو کہ اس نے دو بیویاں نہیں کیں۔۔