مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 397
397 66 صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ يَعْنِی عِيْسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ نَازِلٌ (ابو دؤد كتاب الملاحم باب خروج الدجال ) کہ اس نازل ہونے والے اور ے میرے درمیان کوئی نبی نہ ہوگا۔بخاری میں بھی لیس بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِی کے الفاظ آتے ہیں۔(بخاری کتاب بدء الخلق باب ذكر مريم ) الجواب : تمیں کی تعیین بتاتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی سچے نبی بھی آنے والے تھے ورنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ جو بھی آئیں گے جھوٹے ہی آئیں گے۔۲:۔یہ حدیث بخاری، ترمذی اور ابو داؤد میں ہے اور جہاں تک اس حدیث کے راویوں کا تعلق ہے یہ حدیث قابل استناد نہیں۔کیونکہ بخاری نے اسے ابوالیمان سے بطریقہ شعیب وابوالزنا نقل کیا ہے۔ابوالزناد کے متعلق ربیعہ کا قول ہے کہ لَيْسَ بِشِقَةٍ وَلَا رَضى (ميزان الاعتدال ذكــر عبدالله بن ذكوان ابوالزناد ) کہ راوی نہ ثقہ ہے اور نہ پسندیدہ۔ابوالیمان راوی نے یہ روایت شعیب سے لی ہے مگر لکھا ہے لَمْ يَسْمَعُ أَبُو الْيَمَانِ مِنْ شُعَيْبٍ۔( میزان الاعتدال ذكر ابوالیمان) کہ ابوالیمان نے شعیب سے ایک حدیث بھی نہیں سنی۔امام احمد بن حنبل نے بھی یہی فرمایا ہے۔پس یہ روایت قابل استناد نہ رہی۔:۔تمہیں دجالوں والی حدیث کو ترمذی نے جس طریقہ سے نقل کیا ہے اس کی اسناد میں ابو قلا به اور ثوبان دور اوی نا قابل اعتبار ہیں۔ابوقلابہ کے متعلق تو لکھا ہے کہ لَيْسَ أَبُو قَلَابَةَ مِنْ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ وَهُوَ عِنْدَ النَّاسِ مَعْدُودٌ فِى الْبُلْه - (تهذيب التهذيب زير لفظ ابو قلابه) إِنَّهُ مُدَلِّسٌ عَمَّنْ لَحِقَهُمْ وَعَمَّنْ لَمْ يَلْحَقُهُمْ “ (میزان الاعتدال زیر لفظ ابوقلابه) کہ ابوقلابہ فقہاء میں سے نہ تھا بلکہ وہ لوگوں کے نزدیک ابلہ مشہور تھا۔اور جو اسے ملا اس کے بارے میں اور جو اس سے نہیں ملا اس کے بارے میں بھی وہ تدلیس کیا کرتا تھا۔اسی طرح ثوبان کے متعلق از دی کا قول ہے کہ يَتَكَلَّمُونَ فِيهِ۔(ميزان الاعتدال زير لفظ ثوبان) کہ اس راوی کی صحت میں کلام ہے۔ترمذی کے دوسرے طریقہ میں عبد الرزاق بن ہمام اور معمر بن راشد دو راوی ضعیف ہیں۔عبدالرزاق بن ہمام تو شیعہ تھا - قَالَ النَّسَائِيُّ فِيهِ نَظَر۔۔۔إِنَّهُ لَكَذَّابٌ وَالْوَاقِدِيُّ اَصْدَقُ مِنْهُ