مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 387
387 أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوَّمَهُ يَوْمَ عَاشُورَاءَ أَوْ عُمُرُهُ ثَمَانِيَةَ أَشْهُرٍ۔الفتاوی الحدیثیہ مصنفه امام ابن حجر بیشمی مطلب ما ورد في حق ابراهيم ابن نبينا ) کہ جس طرح حضرت عیسی اور یحییٰ علیہ السلام پر بچپن میں جبرئیل وحی لے کر نازل ہوئے اس طرح احتمال ہے کہ حضرت ابراہیم ابن النبی صلعم پر جبرئیل وحی لے کر بچپن کی عمر میں نازل ہوئے اور یہ بات بدیں وجہ وزنی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچہ ابراہیم کو عاشورہ کے روزے رکھوائے حالانکہ ان کی عمر ابھی صرف آٹھ ماہ کی تھی۔۵۔علامہ ابن حجر مذکور فرماتے ہیں: "وَخَبُرُ لَا وَحُيَ بَعْدِي بَاطِلٌ وَ مَا أَشْهَرَانَّ جِبْرِيلَ لَا يَنْزِلُ إِلَى الْأَرْضِ بَعْدَ مَوْتِ النَّبِيِّ صَلْعَمُ فَهُوَ لَا أَصْلَ لَهُ۔“ (روح المعانی جلد ۸ احزاب زیر آیت ۳۹ تا ۴۸ )۔اس کا ترجمہ فارسی میں نواب صدیق حسن خان صاحب نے یہ کیا ہے:۔و آنکه برانسنه عامه مشهور شده که نزول جبرائیل بسوئے ارض بعد موت رسول خدا صلحم نشود بے اصل محض است ( حج الکرامه از نواب صدیق حسن خان صاحب مطبع شاہجہانی بھوپال صفحه ۴۳۱) کہ یہ حدیث کہ میرے بعد کوئی وحی نہیں باطل ہے ( موضوع ہے ) اور یہ جو عام طور پر مشہور ہے کہ جبرائیل وفات نبوی کے بعد زمین پر نازل نہیں ہوں گے اس کی کوئی بنیاد نہیں۔مندرجہ بالا وجوہ کی بنا پر من قبلک سے غیر احمدیوں کا استدلال باطل ہے۔ساتویں آیت :۔عَلى فَتْرَةٍ مِّنَ الرُّسُلِ (المائدة:۲۰) جواب : "قرة" کے معنے ختم ہو جانا نہیں بلکہ اس کے معنی وقفہ کے ہیں جو دو رسولوں کے درمیان ہوتا ہے۔چنانچہ لغت میں لکھا ہے :۔"Interval between two fits of fever, between the missions of (الفرائد الدریہ صفحه ۵۴۴) "۔two prophets, interregnum truce یعنی فترة کے معنی ہیں بخار کے دو حملوں کا درمیانی وقفہ، دونبیوں کا درمیانی زمانہ ، عارضی صلح۔پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسی کے بعد جب ایک وقفہ پڑ گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنا کر بھیجا گیا چنانچہ لکھا ہے:۔وَ الْفَتْرَةُ الَّتِي كَانَتْ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِيْسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ “