مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 386
386 که مسیح موعود دجال کو باب لد شرقی پر قتل کرے گا اور جب وہ اس حالت میں ہوں گے تو خدا تعالیٰ مسیح موعود پر وحی کرے گا کہ میں نے اپنے بندوں میں سے بعض بندے تیری حمایت میں نکالے ہیں۔۳۔اس حدیث کو نقل کر کے نواب صدیق حسن خاں صاحب نجح الکرامہ میں لکھتے ہیں :۔و ظاہر آنست کہ آرندہ وحی بسوئے او جبرئیل علیہ السلام باشد بلکہ ہمیں یقین داریم ودراں تر دو نمی کنیم چه جبرائیل سفیر خدا است در میان انبیاء علیهم السلام و فرشتہ دیگر برائے ایس کار معروف نیست حج الکرامه از نواب صدیق حسن خان صاحب مطبع شاہجہانی بھوپال صفحه ۴۳۱ ) کہ ہمیں یقین ہے کہ مسیح موعود کی طرف جبرائیل ہی وحی لے کر آویں گے کیونکہ انبیا ء کی طرف خدا کی وحی لانے کے لئے وہی مقرر ہیں۔اور ان کے سوا کوئی دوسرا فرشتہ اس کام پر مقرر نہیں ہے۔۴۔علامہ ابن حجر ہیثمی فرماتے ہیں :۔وَ ذَلِكَ الْوَحْيُ عَلَى لِسَانِ جِبْرِيلَ إِذْ هُوَ السَّفِيرُ بَيْنَ اللَّهِ تَعَالَى وَ أَنْبِيَائِهِ (روح المعانی جلد ۸ احزاب زیر آیت نمبر ۳۹ تا ۴۸ صفحه ۶۵) علاوہ ازیں امام ابن حجر اہیمی کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ابراہیم (جو آیت خاتم النبیین کے نزول کے بعد پیدا ہوئے) نبی تھا اور پھر یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ان کی طرف حضرت جبرئیل علیہ السلام وحی لے کر نازل ہوئے جس طرح جبرئیل حضرت عیسی علیہ السلام پر ماں کی گود میں وحی لے کر نازل ہوئے اور حضرت بیچی علیہ السلام پر تین سال کی عمر میں نازل ہوئے۔لکھتے ہیں:۔وَلَا بُعْـدَ فِي إِثْبَاتِ النُّبُوَّةِ لَهُ مَعَ صِغَرِهِ لَأَنَّهُ كَعِيْسَى الْقَائِلِ يَوْمَ وُلِدَ إِنِّي عَبْدُ اللهِ اتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِى نَبِيًّا وَ كَيَحْيِيَ الَّذِي قَالَ تَعَالَى فِيْهِ وَآتَيْنَهُ الْحُكْمَ صَبيًّا۔“ (الفتاوی الحدیثیہ مصنفہ امام ابن حجر امیشی مطلب ما ورد في حق ابراهيم ابن نبينا ) 66 کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صاحبزادہ ابراہیم چھوٹی عمر میں نبی ہو گیا تو اس میں کوئی بعید از عقل بات نہیں کیونکہ وہ حضرت عیسی کی طرح ہیں جنہوں نے پیدائش کے دن کہا تھا کہ میں خدا کا بندہ ہوں۔مجھے اللہ نے کتاب دی ہے اور نبی بنایا ہے۔نیز وہ حضرت بیٹی کی طرح ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ان کو بچپن ہی کی عمر میں دانشمندی عطا فرمائی تھی۔پھر فرماتے ہیں:۔وَ احْتَمَالُ نُزُولِ جِبْرِيلَ بِوَحْيِ لِعِيسَى اَوْ يَحْيَى يَجْرِى فِي إِبْرَاهِيمَ وَ يُرَجِحُهُ