مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 385
385 اتباع کے طفیل حضور کے غلاموں پر نازل ہوتی ہے۔پھر اس شخص سے علیحدہ طور پر اقرار لینے کی کیا ضرورت تھی؟ (۳) اس طرح تو کوئی شخص یہ بھی کہ سکتا ہے کہ اس آیت میں ایمان بالملائکہ کا بھی کوئی ذکر نہیں اس لئے ثابت ہوا کہ ملائکہ پر ایمان لانا ضروری نہیں یا یہ کہ سرے سے ان کا کوئی وجود ہی نہیں۔تو اس کا جواب بھی یہی ہوگا کہ ملائکہ پر ایمان مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ کے اندر شامل ہے اور مذکور ہے۔اس لئے علیحدہ طور پر اس کے ذکر کی ضرورت نہیں۔(۴) اسی طرح اس آیت میں تمہارے خود تسلیم کردہ سیح موعود اور مہدی کا بھی تو ذکر نہیں۔آنحضرت صلعم کے بعد وحی علاوہ مندرجہ بالا نیز دیگر آیات قرآنی کے (جن کی تفصیل مضمون ” دلائل امکان نبوت“ میں درج کی گئی ہے ) احادیث نبوی میں بھی اس وحی کی خبر دی گئی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسیح موعود اور امام مهدی پر نازل ہوگی دیکھو صیح مسلم۔کتاب الفتن و اشراط الساعةباب صفت الدجال و نزول المسيح جلد ومشكواة كتاب الفتن باب فى العلامات بين يدى الساعة لَهُ أَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ “ کہ اللہ تعالیٰ مسیح موعود پر وحی نازل کرے گا۔نیز دیکھونج الکرامہ صفحہ ۴۳۱ و اقتراب الساعۃ صفحہ ۶۳ مطبع مفید عام الكائنة فی آگرہ جہاں حضرت امام سیوطی حضرت حافظ ابن حجر اور دیگر بزرگان کی تصریحات کی بناء پر لکھا ہے کہ مسیح موعود پر بعد نزول حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ وحی نازل ہوگی مفصل حوالجات فریل میں درج ہیں :۔ا۔علامہ ابن حجر بیٹی سے جب پوچھا گیا کہ جب مسیح موعود آئے گا تو اس پر وحی نازل ہوگی؟ تو انہوں نے جواب دیا۔نَعَمْ يُوحَى إِلَيْهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَحْيٌ حَقِيقِيٌّ كَمَا فِي حَدِيثِ مُسْلِمٍ (روح المعانى سورة احزاب زیر آیت نمبر ۳۹ تا ۴۸) ہاں خدا تعالیٰ ان پر وحی حقیقی نازل کرے گا جیسا کہ مسلم کی حدیث میں ہے۔۲۔حدیث مسلم میں ہے يَقْتُلُ عِيسَى الدَّجَّالَ عِنْدَ بَابِ لُدِ الشَّرْقِيَ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَوْحَى اللَّهُ إِلى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ إِنِّى قَدْ اَخْرَجْتُ عِبَادًا مِنْ عِبَادِى “ 66 (مسلم کتاب الفتن و اشراط الساعة باب ذكر الدجال ، مشكوة صفحه ۴۵۳ کتاب الفتن باب العلامات بين يدى الساعة)