مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 378
378 کے آنے سے گذشتہ تمام نبیوں کا سلسلہ منقطع ہوگیا لیکن آپ کے ذریعہ اور آپ کے طفیل سے آئندہ غیر تشریعی اور امتی نبیوں کا سلسلہ جاری ہوا۔احراری: میں نکلا تھا“ کا لفظ مضحکہ خیز ہے۔احمدی:۔یہ طرز کلام حضرت مسیح موعود کا اپنا نہیں بلکہ قرآن مجید کی اس آیت کا لفظی ترجمہ ہے۔وَاللهُ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهَتِكُمْ (النحل: ۷۹ ) جس کا لفظی ترجمہ یہ ہے اور اللہ نے نکال تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے۔پس اس نکلنے میں تو خود معترض بھی شامل ہے۔یوں بے حیا بن کر قرآنی محاورات پر جو چاہے اعتراض کرتا رہے! ۴۔حضرت مسیح موعود نے خاتم کا محاورہ جب بھی عربی عبارت میں استعمال فرمایا ہے وہاں اس کے معنی افضل ہی کے ہیں جیسا کہ فرماتے ہیں:۔"هو خاتم الحسينين و الجميلين، كما أنه خاتم النبيين والمرسلين۔66 آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۶۳ ) یعنی آنحضرت صلعم تمام حسینوں اور جمیلوں کے بھی خاتم ہیں جس طرح آپ رسولوں اور نبیوں کے خاتم ہیں۔“ الف۔پس صاف طور پر ثابت ہوا کہ عربی محاورہ کے لحاظ سے حضرت مرزا صاحب خاتم“ کو افضل ہی کے معنوں میں استعمال فرماتے تھے۔ب:۔ایک دوسری جگہ یہ عربی عبارت لکھتے ہیں: ” فحينئذ تكون وارث كل رسول ونبي۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وبك تُختم الولاية تحفہ بغداد - روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۴، فتوح الغیب مقالہ نمبرم صفحه ۲۳ فارسی از شیخ عبدالحق محدث دہلوی، ندائے غیب صفحہ کے ترجمہ اردو ) اور اس عربی عبارت کا ترجمہ حضور اپنی طرف سے یہ تحریر فرماتے ہیں:۔”خدا تعالیٰ تجھے اپنے نبیوں اور رسولوں کا وارث بنادے گا یعنی ان کے علوم و معارف اور برکات جو خفی اور نا پدید ہو گئے تھے۔وہ از سر نو تجھ کو عطا کئے جائیں گے اور ولایت تیرے پر ختم ہوگی یعنی تیرے بعد کوئی نہیں اُٹھے گا جو تجھ سے بڑا ہو (برکات الدعا۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ ۱۶ حاشیہ ) یہ دونوں عربی عبارتیں فیصلہ کن ہیں۔