مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 360 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 360

360 کہ میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس وقت سے خاتم النبین ہوں جبکہ حضرت آدم ابھی مٹی اور پانی میں تھے نیز محمدیہ پاکٹ بک مطبوعه ۱۹۸۹ صفه ۴۰۲) گویا جس قدر انبیاء آئے وہ سب ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین بننے کے بعد آئے۔لہذا حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل“ ہیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ؎ سب پاک ہیں پیمبراک دوسرے سے بہتر لیک از خدائے برتر خیر الوریٰ یہی ہے نوٹ نمبر ۲:۔اس موقعہ پر بعض غیر احمدی لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ (بخارى كتاب الجهاد والسير باب فضل الجهاد ۲ - كنز العمال جلد اول كتاب الاذكار من قسم الافعال من حرف الهمزه باب في القرآن فصل في تفسير سورة البقرة) والی حدیث بھی پیش کرتے ہیں تو اس کے جواب میں یا درکھنا چاہیے کہ یہ حدیث تو ہماری مؤید ہے کیونکہ اس میں لا جُرَةَ“ کا لفظ اسی طرح مستعمل ہوا ہے جس طرح لَا نَبِيَّ بَعْدِی میں۔اب کیا لا هِجْرَةَ“ کے معنی یہ ہیں کہ اب مطلقا ہجرت ہی بند ہے؟ بیا یہ کہ صرف ایک خاص ہجرت جو مکہ سے مدینہ کی طرف تھی وہ بند ہے؟ ظاہر ہے کہ مطلقا، ہجرت بند نہیں کیونکہ یہ واقعات کے بھی خلاف ہے اور اس سے قرآن مجید کی آیات متعلقہ ہجرت کو منسوخ ماننا پڑتا ہے اب رہی دوسری صورت کہ خاص ہجرت بند کی گئی۔تو بعینہ اسی طرح لَا نَبِيَّ بَعْدِی میں بھی قطعا نبوت بند نہ ہوئی بلکہ ایک خاص قسم کی نبوت مراد لینی پڑے گی یعنی تشریعی نبوت یا بلا واسطہ نبوت و ہوالمراد۔چنانچہ حضرت امام رازی حدیث لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ کے بارے میں لکھتے ہیں : وَ أَمَّا قَوْلُهُ لَا هِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتح فَالْمُرَادُ الْهِجُرَةُ المَخْصُوصَةُ ( تفسیر کبیر جلد ۱۵ صفحه ۲۱۳ الطبعة الثانية دار الکتب العلمیۃ طہران۔مسند احمد بن حنبل مسند عبد اللہ بن عباس حدیث (۱۹۹۱) یعنی اس حدیث میں مطلق ہجرت کی نفی نہیں بلکہ مخصوص ہجرۃ کی نفی مراد ہے اسی طرح تمہارا "لا نفی جنس بھی اڑ گیا ! ٢ - أَنَا خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَأَنْتَ يَا عَلِيُّ خَاتَمُ الْأَوْصِيَاءِ“ (کنوز الحقائق فی احادیث خیر الخلائق بر حاشیہ جامع الصغیر مصری جلد اصفحہ اے ) کہ میں خاتم الانبیاء ہوں اور اے علی ! تو خاتم الاوصیاء ہے کیا حضرت علی کے بعد نہ کوئی موصی ہو سکتا ہے اور نہ کوئی وصی؟