مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 345
345 کہ نسائی نے کہا کہ یہ روای ثقہ ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ راویوں میں شمار کیا ہے۔۲۔داؤد بن شبیب الباہلی:۔قَالَ أَبُو حَاتِمٍ صُدُوقٌ وَ ذَكَرَهُ ابْنُ حَبَّانَ فِي الثّقات (تهذیب التهذیب از حافظ ابن حجر عسقلانی حرف دال زیر لفظ داؤد ) کہ ابو حاتم نے کہا کہ سچا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ رایوں میں شمار کیا ہے۔۔ابراہیم بن عثمان اس کے متعلق بعض لوگوں نے کہا کہ ضعیف ہے مگر اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی یہ واسط کے شہر میں قاضی تھا اس کے متعلق بھی تہذیب التہذیب میں لکھا ہے: قَالَ يَزِيدُ ابْنُ هَارُونَ مَا قَضَى عَلَى النَّاسِ رَجُلٌ يَعْنِي فِي زَمَانِهِ أَعْدَلَ فِي قَضَاءٍ مِّنْهُ۔۔۔۔۔قَالَ ابْنُ عَدِي لَهُ اَحَادِيتُ صَالِحَةٌ وَهُوَ خَيْرٌ مِّنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حَيَّةَ۔(تهذيب التهذیب از حافظ ابن حجر عسقلانی حرف الف زیر لفظ ابراهيم، تهذيب الكمال و الاكمال فی اسماء الرجال مصنفه از حافظ جمال الدين ابى الحجاج يوسف جز اوّل زیر لفظ ابراهيم) کہ یزید بن ہارون نے کہا ہے کہ اس کے زمانہ میں اس سے زیادہ عدل اور انصاف کے ساتھ کسی نے فیصلے نہیں کئے اور ابن عدی نے کہا ہے کہ اس کی حدیثیں کچی ہوتی ہیں اور ابوحیہ سے اچھا راوی ہے۔ابوحیہ کے متعلق تہذیب التہذیب میں لکھا ہے۔قَالَ النَّسَائِي ثِقَةٌ۔۔۔۔۔وَوَثَقَهُ الدَّارُ قُطْنِي۔۔۔۔ابنُ حَبَّانَ (تهذيب التهذيب از حافظ ابن حجر عسقلانی حرف الف زیر لفظ ابوحیه ) که دارقطنی ابن قانع اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور نسائی نے کہا ثقہ ہے۔ابراہیم بن عثمان جب ابوحیہ سے اچھا ہے اور ابوحیہ ثقہ ہے پس ثابت ہوا کہ ابراہیم بن عثمان اس سے بڑھ کر ثقہ ہے بھلا جو شخص اتنا عادل ہو کہ اس کے زمانہ میں اس کی نظیر نہ ملے اس کے متعلق بلا وجہ یہ کہ دینا کہ وہ جھوٹی حدیثیں بنایا کرتا تھا صریحا ظلم ہے حقیقت یہ ہے کہ چونکہ وہ بڑا عادل اور با انصاف آدمی تھا۔نا جائز طور پر کسی کی رعایت نہ کرتا تھا۔بعض لوگوں نے کینہ کی وجہ سے اس کے متعلق یہ کہہ دیا کہ وہ برا ہے۔پس جب تک کوئی معقول وجہ پیش نہ کی جائے اس وقت تک اس کے مخالفین کی کوئی بات قابل سند نہیں۔