مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 342
342 حضرت امام رازی رحمۃ <mark>اللہ</mark> علیہ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: فَحَاصِلُ الْكَلَامِ أَنَّهُ تَعَالَى اَوْجَبَ عَلَى جَمِيعِ الْأَنْبِيَاءِ الْإِيْمَانَ بِكُلِّ رَسُولٍ جَاءَ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَهُمُ ( تفسیر کبیر رازی زیر آیت وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّنَ ال عمران: ۸۱) یعنی خلاصہ کلام یہ ہے کہ <mark>اللہ</mark> تعالیٰ نے تمام ا<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>اء پر یہ بات واجب کر دی کہ وہ ہر اس رسول پر ایمان لائیں جوان کی اپنی نبوت کا مصدق ہو۔اب <mark>سوا</mark>ل یہ ہے کہ کیا آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم سے بھی عہد لیا گیا یا نہیں۔قرآن مجید میں ہے۔وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيْنَ مِيْثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوح وَإِبْراهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى (الاحزاب : ۸) کہ ہم نے جب <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>وں سے عہد لیا تو آپ سے بھی لیا اور حضرت نوح اور حضرت ابراہیم اور موسیٰ اور عیسی بن مریم علیہم السلام سے بھی یہی عہد لیا۔اگر آپ کے بعد نبوت بند تھی تو آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وسلم سے یہ عہد نہیں لینا چاہیے تھا مگر آپ سے بھی اس عہد کا لینا امکان نبوت کی دلیل ہے۔امکان نبوت از روئے احادیث نبوی پہلی حدیث : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ ابْنُ مُحَمَّدٍ۔حَدَّثَنَا دَاوُدُ ابْنُ شَبِيْبِ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ابْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ابْنُ عُتَيْبَةَ عَنْ مِقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا مَاتَ إِبْرَاهِيمُ ابْنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلَّم وَقَالَ إِنَّ لَهُ مُرْضِعًا فِى الْجَنَّةِ وَلَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا۔(سنن ابن ماجه کتاب الجنائز باب ما جاء في الصلوة على ابن رسول الله ذكر وفاته) حضرت ابن عباس رضی <mark>اللہ</mark> عنہ سے مروی ہے کہ جب آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وآلہ وسلم کا بیٹا ابراہیم فوت ہوا تو آنحضرت صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وآلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور فرمایا کہ جنت میں اس کے لئے ایک آتا ہے۔اور فرمایا کہ اگر یہ زندہ رہتا تو سچا <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> ہوتا۔یہ واقعہ وفات ابراہیم ابن رسول <mark>اللہ</mark> صلی <mark>اللہ</mark> علیہ وآلہ وسلم ۹ھ میں ہوا۔اور آیت خاتم ال<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ن ۵ھ میں نازل ہوئی۔گویا آیت خاتم ال<mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark>ن کے نزول کے چار سال بعد حضور فرماتے ہیں کہ اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> ہوتا۔گویا حضور کے نزدیک اس کا <mark><mark><mark>نبی</mark></mark></mark> نہ بننا اس کی موت کی وجہ سے ہے