مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 334
334 اس امر کا ثبوت کہ یہ خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے رسولوں کو نہیں ہے :۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ فَقَالَ يَايُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطيبتِ وَاعْمَلُوْا صَالِحًا (المؤمنون: ۵۲) وَ قَالَ تَعَالَى يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ امَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا رَزَقْنُكُمْ (البقرة: ۱۷۳) (مسلم كتاب الزكوة باب قبول الصدقة من الكسب الطيب بحوالہ محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۴۸۶ ایڈیشن ۱۹۸۹ ء ) یعنی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پاک ہے اور سوائے پاکیزگی کے کچھ قبول نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو بھی حکم دیا ہے جو اس نے نبیوں کو دیا ہے۔کہ اے رسولو ! پاک چیزیں کھاؤ اور مناسب حال اعمال بجا لاؤ۔ایسا ہی اللہ تعالیٰ نے (مسلمانوں کو ) فرمایا کہ اے ایمان والو اس پاک رزق سے کھاؤ جو ہم نے تم کو دیا ہے۔یہ حدیث صاف بتا رہی ہے کہ جس طرح یا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيْبَتِ مَا رَزَقْنكُمْ (البقرة: ۱۷۳) والا حکم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے فوت ہو چکنے والے مومنوں کو نہیں بلکہ موجودہ یا بعد میں ہونے والے مومنوں کو دیا گیا ہے۔اسی طرح یايُّهَا الرُّسُلُ کا خطاب بھی گزشتہ انبیاء کو نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ یا آپ کے بعد آنے والے رسولوں سے ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تو کوئی اور رسول تھا نہیں۔لہذا ثابت ہوا کے بعد پیدا ہونے والے ایسے رسولوں سے خطاب ہے جو قرآن کی شریعت کے تابع ہوں گے۔غیر احمدی:۔آیت یابها الرسل میں ذکر پہلی امتوں کا ہے جنہوں نے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خطاب نہیں ہے۔بلکہ پہلے انبیاء سے ہے۔جواب:۔جی نہیں ! یہ خطاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء کو ہرگز نہیں ہے۔جیسا کہ اوپر درج شدہ حدیث سے ثابت کیا گیا ہے۔اب تفسیر بھی دیکھ لو لکھا ہے :۔ا۔امام ثعالبی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں :۔کہ رُسُلُ اللہ سے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں جیسے کہ یا تیهَا الرُّسُلُ میں لفظ جمع کے ساتھ انہی کی طرف خطاب ہے اور یہ تی ی تعظیم کی راہ سے ہے۔شرح معارف میں لکھا ہے کہ جب تک حق تعالیٰ نے سب انبیاء علیہم السلام کے خصائل اور شمائل حضرت سید الانبیاء میں جمع نہیں کئے۔حضرت کو آیت یا يُّهَا الرُّسُلُ سے خطاب نہیں فرمایا۔( تفسیر حسینی قادری زیر آیت مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللهِ انعام : ۱۲۵ نیز دیکھو جلد ۲ صفحہ ۵۷ وصفحه ۹۹)