مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 314
314 پہلی آیت عدم رجوع موتی مردوں کا اس دنیا میں دوبارہ نہ آنا ! از روئے قرآن کریم وَحَرُمُ عَلَى قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ (الانبیاء: ۹۶) یعنی ہر ایک فوت شدہ بستی پر واجب ہے کہ وہ اس دنیا کی طرف واپس نہ آئیں گے۔دوسری آیت أَلَمْ يَرَوْا كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِنَ الْقُرُونِ أَنَّهُمْ إِلَيْهِمْ لَا يَرْجِعُونَ (يس: ٣٢) کیا ان کو معلوم نہیں کہ ہم نے کس قدر لوگ ان سے پہلے ہلاک کئے اور پھر وہ دوبارہ ان کی طرف نہیں آتے۔تیسری آیت فَلَا يَسْتَطِيعُونَ تَوْصِيَةً وَلَا إِلَى أَهْلِهِمْ يَرْجِعُونَ (يس: ۵۱) جب موت آجاتی ہے تو نہ وصیت کر سکتے ہیں اور نہ ہی دوبارہ اپنے اہل وعیال کی طرف آسکتے ہیں۔چوتھی آیت إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ لَعَلَّى أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَابِلُهَا وَمِنْ وَرَابِهِمْ بَرْزَخٌ إِلى يَوْمِ يُبْعَثُونَ (المؤمنون: ۱۰۱،۱۰۰) که یہاں تک کہ ان میں سے جب ایک مرجاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اے میرے رب مجھے واپس لوٹا دے تا کہ میں اعمال صالحہ بجالاؤں (لیکن) یہ بات ہر گز نہ ہوگی۔یہ صرف ایک بات ہے جو وہ منہ سے کہہ رہا ہے اور ان کے پیچھے ایک روک ہے قیامت کے دن تک۔یعنی وہ دنیا میں ہرگز نہیں آسکتے۔پانچویں آیت فَيُمْسِكُ التِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأخْرى (الزمر: ۴۳) اللہ تعالیٰ روکے رکھتا ہے اس نفس کو جس پر موت کو وارد کرتا ہے، اور سونے والے نفس کو واپس بھیجتا ہے۔یعنی مردہ نفس دوبارہ بھی نہیں آتا۔