مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 298
298 ( قبرستان ) میں مدفون صحابہ کا ذکر فرمایا ہے اور حضرت عیسی کا نام نہیں لیا۔پس یہ اس بات کی قطعی شہادت ہے کہ آنحضرت کی مدینہ والی قبر میں یا حضور کے روضہ میں حضرت مسیح موعود کے دفن ہونے کی کوئی صورت نہیں۔(۴) ایک حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ میں تیسرے دن کے بعد اپنی قبر میں نہ رہوں گا تو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں حضرت عیسی بقول تمہارے مدفون ہوں گے تو اس وقت تو آ نحضر تصلی اللہ علیہ وسلم وہاں موجود نہ ہوں گے تو پھر معنی کی شرط پوری نہ ہوئی۔(۵) تم لوگ کنز العمال ( جلدا الفصل الاول ابواب في فضائل سائر الانبياء حدیث نمبر ۳۲۲۳۲) کی روایت پیش کرتے ہو کہ مَا تَوَفَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ نَبِيًّا إِلَّا دُفِنَ حَيْثُ يُقْبَضُ کہ نبی جہاں مرتا ہے وہیں دفن ہوتا ہے۔(اور اسی وجہ سے حضرت مرزا صاحب پر اعتراض کیا کرتے ہو اور اس کا جواب دوسری جگہ دیا ہے ) اور تم مانتے ہو کہ اسی بناء پر آنحضرت چونکہ حجرہ عائشہ میں فوت ہوئے اور اسی میں مدفون بھی ہوئے۔تو اب اگر حضرت عیسی واقعی آسمان سے آجائیں تو کیا وہ آنحضرت کی قبر مبارک کے اندر جا کر فوت ہوں گے۔(۶) اسی حدیث میں ہے کہ فَاقُومُ اَنَا وَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ (كنز العمال جلد 4 صفحہ ۱۹۹) پھر میں اور عیسی بن مریم ایک ہی قبر میں جوا بو بکڑا اور عمر کے درمیان ہوگی کھڑے ہوں گے تو گویا اس کے مطابق حضرت عیسی جس قبر میں مدفون ہوں گے وہ ابوبکر و عمر کی قبروں کے درمیان ہونی چاہیے اور ظاہر ہے کہ حضرت ابو بکر و عمر کی قبروں کے درمیان کوئی جگہ موجود نہیں ہے۔(۷) - الف۔اگر کہو کہ قبر سے مراد مقبرہ ہے تو یہ کسی لغت کی کتاب سے دکھاوا اور انعام لو۔ب۔اندریں صورت فَاقُومُ اَنَا وَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَ عُمَرَ ( كنز العمال جلد ۶ صفحہ۱۹۹) قبر کا ترجمہ مقبرہ کرو گے؟ کیا حضرت ابوبکر و حضرت عمرؓ کے درمیان ایک مقبرہ ہوگا ؟ ج۔مقبرہ تو کہتے ہی مَوضِعُ الْقُبُور (المنجد زیر لفظ قبر ) کو ہیں۔پھر قبر کس طرح مقبرہ بن سکتی ہے؟ د۔جب تم خود اس حدیث کے لفظی معنی نہیں کرتے بلکہ غلط تاویل کرتے ہو تو ہمارے لئے