مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 294 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 294

294 دونوں طرح یہ حدیثیں قابل اعتماد نہیں کہ کسی عقیدہ کے اثبات پر عمل کرنے کو ان سے سند لیں۔اس قسم کی حدیثوں نے بہت سے محدثین کی راہزنی کی ہے۔اس قسم کی حدیثوں کی کتابیں بہت تصنیف ہوئی ہیں۔تھوڑی سی ہم بیان کرتے ہیں:۔“ کتاب الضعفاء لابن حبان۔تصانیف الحاکم۔کتاب الضعفا للعقیلی ، کتاب الکامل لابن عدی ، تصانیف خطیب۔تصانیف ابن شاہین اور تفسیر ابن جریر (عماله نافعه از عبدالعزیز محدث دہلوی ترجمہ فصل اوّل طبع رابع صفحه ۳۷) مراسیل حسن بصری ۲۔یہ روایت مرفوع متصل نہیں بلکہ مرسل ہے اور حضرت حسن بصری سے مروی ہے جو تا بعی تھے صحابی نہ تھے۔مراسیل حسن بصری کے متعلق لکھا ہے: مَا اَرْسَلَ فَلَيْسَ بِحُجَّةٍ (تهذيب التهذيب حرف الحاء - زير لفظ الحسن ( یعنی حسن بصری کی مرسل روایت حجت نہیں ہوتی۔لہذا لَم يَمُتُ والی روایت بھی حجت نہیں۔حضرت احمد بن حنبل فرماتے ہیں: لَيْسَ فِي الْمُرْسَلَاتِ أَضْعَفُ مِنَ الْمُرْسَلَاتِ الْحَسَنَ۔تہذیب التہذیب از احمد بن حجر عسقلانی متوفی ۵۸۵۴ زیر لفظ عطاء بن ابی رباح ) غیر احمدی :۔حضرت حسن بصری کی مرسل میں تو وہی کلام کرے جس کو ان کے اقوال کا پورا علم نہ ہو کیونکہ حسن بصری نے جس قدر روایات صحابی کا نام لئے بغیر آنحضرت سے کی ہیں وہ سب کی سب انہوں نے حضرت علیؓ سے لی ہیں لیکن حجاج بن یوسف کے خوف سے انہوں نے حضرت علی کا نام نہیں لیا۔جواب نمبر :۔یہ تو حضرت حسن بصری پر کسی انسان کے خوف سے حق نہ کہنے کا الزام ہے۔نمبر ۲ یہ ثابت ہے کہ حضرت حسن بصری نے حضرت علیؓ سے ایک حدیث بھی نہیں سنی۔ملاحظہ ہو۔سُئِلَ أَبُو زَرْعَةِ هَلْ سَمِعَ الْحَسَنُ أَحَدًا مِنَ الْبَدْرِيِّينَ قَالَ رَآهُمُ رُؤْيَةً رَأْيَ عُثْمَانَ وَ عَلِيًّا قِيْلَ هَلْ سَمِعَ مِنْهُمَا حَدِيثًا قَالَ لَا - تهذيب التهذيب زير لفظ الحسن ) يعنى ابوزرعہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا حضرت حسن بصری نے کسی بدری صحابی کو دیکھا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں حضرت عثمان ، حضرت علیؓ کو صرف ایک نظر دیکھا ہے۔پوچھا گیا کہ انہوں نے حضرت عثمان یا حضرت علیؓ سے کوئی حدیث بھی سنی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔اس طرح لکھا ہے: