مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 289
289 مِنْ دُونِ اللهِ (المائدۃ: ۱۱۷) کہ جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حضرت مسیح سے پوچھے گا کہ کیا آپ نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو معبود بنا کر ہماری عبادت کیا کرو؟ تو مسیح اس کے جواب میں کہیں گے۔مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي أَنِ اعْبُدُوا اللهَ رَبِّي وَرَبَّكُمُ (المائدة : ۱۱۸) کہ میں نے ان سے وہی کچھ کہا جس کا آپ نے مجھے حکم دیا، یعنی یہ کہ تم بھی اسی اللہ کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے۔غرضیکہ لن يستنكف والی آیت میں جس عدم انکار از عبادت کا ذکر ہے وہ قیامت کے دن ہوگا، جیسا کہ قرآن مجید نے دوسری جگہ خود اس کا ذکر بالتفصیل کر دیا ہے یعنی سورہ مائدہ آخری رکوع میں جس کا اوپر حوالہ دیا گیا ہے۔لطيفه مصنف محمدیہ پاکٹ بک نے حیات مسیح کی نویں دلیل یہ کھی ہے۔" قرآن مجید میں جہاں کہیں کسی شخص کو مقرب فرمایا ہے۔سب جگہ مذکور ساکنین آسمان ہیں چنانچہ سورۃ واقعہ میں جنتیوں کے حق میں لفظ مقرب وارد ہے اور قرآن و حدیث سے ظاہر ہے کہ جنت آسمان پر ہے، دوسرے موقع پر حضرت مسیح کے لیے ” وَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ “ آیا ہے۔مطلب ظاہر ہے کہ حضرت مسیح آسمان پر ہیں۔“ محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۵۷۳،۵۷۲ بار دوم ۱۹۸۹ء مطبع آرٹ پرنٹر لا ہورنا شر المکتبۃ السلفیہ لا ہور نمبر ۲) احمدی:ا۔جنت زمین پر ہو یا آسمان پر لیکن ہم یہ ضرور تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت مسیح فی الواقعہ جنتیوں میں سے ہیں کیونکہ بقول تمہارے لفظ مقرب جہاں کہیں قرآن مجید میں آیا ہے وہاں اس سے مراد یا تو فرشتے ہیں یا جنتی۔حضرت مسیح فرشتے تو نہیں لہذا جنتی ضرور ہیں۔بہر حال ان کی وفات ثابت ہے کیونکہ جنت کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ (الحجر:۴۹) ۲۔باقی تمہارا لکھنا کہ ” قرآن مجید میں مقرب کا لفظ صرف ساکنین آسمان کے لئے آیا ہے۔تمہاری قرآن دانی کی دلیل ہے۔سورہ اعراف اور سورہ شعراء میں فرعون کے جادوگروں کی نسبت لَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ (الاعراف : ۱۱۵ و الشعراء :۴۳) کا لفظ آیا ہے۔تمہارے نزدیک کیا فرعون کا دربار آسمان پر منعقد ہوتا تھا۔۔ذرا یہ بھی بتا دینا کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی تمہارے نزدیک اپنی وفات تک اللہ تعالیٰ کے مقرب تھے یا نہیں؟