مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 285 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 285

285 اعلیٰ درجہ کے ہیں مگر مجہتد نہیں۔ملاحظہ ہو :۔ا وَالْقِسْمُ الثَّانِى مِنَ الرُّوَاةِ هُمُ الْمَعْرُوفُونَ بِالْحِفْظِ وَالْعَدَالَةِ دُونَ الْإِجْتِهَادِ وَالْفَتْوَى كَابِي هُرَيْرَةَ وَ أَنَسِ ابْنِ مَالِك اصول نظام الدین اسحاق بن ابراهيم الشاشي البحث الثاني۔فصل في اقسام الخبر والقسم الثاني من الرواة۔مطبوعه نول کشور صفحه ۴۰ وکتب خانہ رشیدیہ د بلی صفحه ۸۲ ) که راویوں میں سے دوسری قسم کے راوی وہ ہیں جو حافظہ اور دیانتداری کے لحاظ سے تو مشہور ہیں مگر اجتہاد اور فتویٰ کے اعتبار سے قابل اعتبار نہیں جیسے ابو ہر میر ا وانس بن مالک۔ب۔مولانا ثناء اللہ امرتسری پانی پتی اپنی تفسیر بنام تفسیر مظہری میں تحریر فرماتے ہیں:۔تَأْوِيلُ الْآيَةِ بِارْجَاعِ الضَّمِيرِ الثَّانِى إِلى عِيْسَى مَمْنُوعٌ۔إِنَّمَا هُوَزَعْمٌ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ لَيْسَ ذَلِكَ فِي شَيْءٍ فِي الْأَحَادِيثِ ( تفسیر مظہری جلد ۳ صفحه ۲۷۳ زیر آیت قران مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ ) یعنی آیت زیر بحث میں ضمیر ثانی ( یعنی موتہ کی ضمیر کو ) حضرت عیسی کی طرف پھیر کر آیت کے معنی کرنا غلط ہے، جائز نہیں۔یہ تو محض ابو ہریرہ کا اپنا زعم ہے جو احادیث کے بالمقابل وقعت نہیں رکھتا کیونکہ حدیث سے ایسا ثابت نہیں ہوتا۔پس اہل اصول اور محدثین کے نزدیک حضرت ابو ہریرہ ثقہ راوی ہیں اور ان کی روایت درست مگر ان کا اپنا خیال اور قول ہر گز حجت نہیں خصوصاً جبکہ قرآن مجید کی ۳۰ آیات ، متعدد احادیث اور رہبرانِ اُمت کے بیسیوں اقوال اس کے خلاف ہوں۔چنانچہ اسی بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ کا ایک اور اجتہا درج ہے۔آنحضرت کی حدیث ما من بنى آدم مولود إِلَّا يمسح الشيطان حِيْنَ يُولَدُ فَيَسْتَهِلْ صَارِحًا مِنْ مَسَ الشَّيْطَانِ - (بخاری کتاب احادیث الانبیاء باب قوله تعالیٰ واذكر في الكتاب مريم۔۔۔مسلم کتاب الفصائل باب (۱۴۶) ( کہ ہر بچہ کو بوقت پیدائش شیطان مس کرتا ہے بجز مریم اور ابن مریم کے، کہ وہ دونوں میں شیطان سے پاک ہیں) کے متعلق حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں۔فَاقْرَءُ وُا إِنْ شِئْتُمْ إِنِّى أَعِيْدُهَا بِكَ وَ ذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ (بخاری کتاب التفسير۔تفسير سورة آل عمران جلد ۳ مطبع الهيه مصر ) که آنحضرت کی اس حدیث کے سمجھنے کے لئے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھو کہ حضرت مریم کی والدہ نے کہا کہ میں مریم اور اس کی ذریت کے لئے شیطان الرجیم سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں۔حالانکہ حضرت ابو ہریرہ کا یہ اجتہاد قطعی طور پر غلط ہے کیونکہ حضرت مریم کی والدہ کی مندرجہ بالا دعا حضرت مریم کی ولادت کے بعد کی ہے اور حدیث میں جس