مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 281 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 281

281 اور عداوت ڈال دی ہے اور پھر الـمـائـدة : ۶۵ میں ہے۔وَالْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إلى يَوْمِ القِيمة۔۔اب ذرا سوچو کہ اگر سب اہل کتاب ایمان لے آئیں اور سب یہودی حضرت عیسی کے متبع ہو جائیں تو پھر ان پر تا قیامت غلبہ کیونکر ؟ اور ان میں بغض و عداوت کیسی ؟ پس ماننا پڑے گا کہ یہ معنی ہی غلط ہیں۔وجہ پنجم۔مَوتِہ میں کی ضمیر کی بجائے دوسری قراءت میں ھم کا لفظ آیا ہے جو جمع ہے اور جس سے صرف اہل کتاب ہی مراد لئے جا سکتے ہیں ٹھسم کے لئے دیکھیں عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ قَالَ هِيَ فِى قَرَاءَةِ أَبَيِّ قَبْلَ مَوْتِهِمْ۔(ابن جرير جلد ۶ صفحه۱۵) یعنی ابن عباس نے فرمایا کہ ابی بن کعب کی قراءت میں مَوْتِہ کی جگہ مَوْتِهِمْ آیا ہے۔قَبْلَ مَوْتِهِمْ کے راوی غیر احمدی: - قَبلَ مَوْتِهِمُ والی قراءت جو ابن عباس سے مروی ہے کذب محض ہے۔اس میں دوراوی خصیف اور عتاب بن بشیر مجروح ہیں۔( محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۶۲ ۵ طبع ۱۹۵۰ء) جواب:۔ابن جریر نے ابن عباس سے پانچ روایات قَبْلَ مَوْتِهِمُ والی قراءت کی نقل کی ہیں جن میں سے چار روایات ایسی ہیں جن میں یہ دونوں راوی نہیں ہیں۔پس دوسری روایات تو تمہارے نزدیک بھی قابل اعتراض نہ ٹھہریں۔تو ابن عباس سے مَوتِهم والی قراءت ثابت تو ہوگئی۔اعتراض کیا رہا۔۲۔باقی رہی پانچویں روایت جس کے راوی خصیف اور عتاب بن بشیر ہیں تو یہ روایت بھی درست ہے۔خصیف بن عبد الرحمن کے متعلق لکھا ہے:۔قَالَ ابْنُ مُعِينٍ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ وَ قَالَ مَرَّةً ثِقَةٌ۔۔۔۔۔قَالَ ابْنُ سَعْدٍ كَانَ ثِقَةٌ قَالَ السَّاجِي صُدُوقٌ (تهذيب التهذيب ذكر خصيف بن عبدالرحمن الجزری ) کہ خصیف ثقہ راوی تھا۔جن لوگوں نے خصیف پر اعتراض کیا ہے ان کے نزدیک وہ روایت جو خصیف سے عبدالعزیز بن عبد الرحمن روایت کرے وہ نا قابل اعتبار ہوتی ہے۔کیونکہ لکھا ہے وَ الْبَلاءُ مِنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَا مِنْ خَصِيْفِ (ایضاً) یعنی نقص عبدالعزیز میں ہے نہ کہ خصیف میں لیکن روایت متنازعہ میں عبدالعزیز راوی نہیں ہے۔اس طرح اس روایت کا دوسرا راوی عتاب بن بشیر بھی قابل اعتبار اور ثقہ ہے جیسا کہ لکھا ہے:۔قَالَ عُثْمَانُ الدَّارِمِيُّ عَنْ أَبِى مُعِينٍ ثِقَةٌ۔۔۔كَذَا أَرْخَهُ ابْنُ حَبَّانَ فِي الثَّقَاتِ۔۔۔۔قَالَ الْحَاكِمُ عَنْ الدَّارِ قُطْنِى ثِقَةٌ (تهذيب التهذيب ذكر عتاب بن بشير الجزرى )