مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 278 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 278

278 اس طرح حافظ ابن حجر نے لسان الميزان حرف الحاء ذكر الحسين بن عبدالله بن ضمیره بن ابی ضمیرہ الجزء الثانی پر عقیلی کا قول اس راوی کی نسبت نقل کیا ہے کہ صَاحِبُ وھم کہ یہ وہی آدمی تھا۔اسی طرح ابن جریر کی چوتھی روایت کا ایک راوی فضیل بن مرزوق الرقاشی ہے جو شیعہ تھا اس کے متعلق ابو حاتم کا قول نقل کیا گیا ہے کہ اس راوی کی روایت حجت نہیں اور قَالَ النَّسَائِی ضَعِيفٌ نیز ابن حبان نے اسے خطا کار اور ضعیف قرار دیا ہے نیز ابن معین نے بھی اسے ضعفاء میں شمار کیا ہے۔(تهذيب التهذيب ذكر فضل بن مرزوق الجزء الرابع) پس یہ ہے تمہاری پیش کردہ تفسیر ابن عباس “ کی حقیقت۔باقی رہی تمہاری شب معراج میں انبیاء کی چار کونسل والی ابن ماجہ کی روایت سو اس کی حقیقت حیات مسیح کی پندرہویں دلیل کے جواب میں دیکھو صفحہ ۳۰۱۔غیر احمدی :۔حضرت مرزا صاحب نے اعجاز احمدی صفحہ ۲۱ اور حمامۃ البشری پہلا ایڈیشن کے صفحہ و پر انہ کی ضمیر کا مرجع مسیح کو مانا ہے۔(محمدیہ پاکٹ بک صفحہ ۵۶۶ - ۵۶۷ مطبع ۱۹۵۰ء) جواب نمبر :۔حضور نے بھی اسی صورت میں مانا ہے جس صورت میں ہم نے ایسا ہی مان کر جواب نمبر ۳۰۲ میں اس کا مفہوم بیان کیا ہے یعنی اس رنگ میں کہ اگر ان کی ضمیر کا مرجع مسیح بھی تسلیم کر لیا جائے تو پھر بھی اس سے حیات مسیح ثابت نہیں ہوتی۔کیونکہ اس صورت میں اس سے مراد مسیح کے بن باپ پیدا ہونے کی یا ہلاکت بنی اسرائیل کی پیشگوئی کی جائے گی۔جواب نمبر ۲:۔علم کے معنی ہیں جاننا۔یہ مصدر ہے اور مصدر کبھی کبھی مبالغہ کے لئے بھی آ جاتا ہے۔جیسے کہتے ہیں زَيْدٌ عَدْلٌ۔زید بہت عادل ہے۔اسی طرح یہاں ہے کہ مسیح قیامت کا اچھی طرح جاننے والا تھا یعنی اس کو یقین تھا کہ قیامت ہوگی اور وہاں وہ اپنے دشمنوں کو پابہ زنجیر دیکھے گا۔اس میں یہود پر بھی ایک حجت ہے کیونکہ ان کا ایک گروہ منکرِ قیامت تھا یا وہ یہود نا مسعود کی ہلاکت کے وقت کو جانتا تھا۔اگر نشانی بھی تسلیم کیا جائے تو ساعت سے مراد قیامت گبر کی تو ہو نہیں سکتی۔جیسا کہ جواب نمبر میں گزر چکا ہے ہاں یہود کی ہلاکت کی گھڑی مراد ہو سکتی ہے اور مطلب یہ بن جائے گا کہ عیسی بن مریم کا بے باپ پیدا ہونا یا مبعوث ہونا اس بات کا بدیہی نشان تھا کہ سب بنی اسرائیل گندے ہو چکے ہیں اور ان کی ہلاکت دروازے پر کھڑی ہے۔