مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 275 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 275

275 اس استدلال پر چند اعتراضات اس آیت سے اگر حضرت عیسی کا آسمان پر جانا مراد ہو سکتا ہے تو ماننا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ آسمان پر محدود ہے اور وہ بھی دوسرے آسمان پر حالانکہ محدودیت باری تعالیٰ محال ہے۔پس عقیدہ حیات مسیح بھی محال ہے۔دوم: - کتب نحو میں السی کے معنی لکھے ہیں کہ یہ انتہاء غایت کے لئے آتا ہے تو اب اگر آسمان پر جانے کے معنی درست ہوں تو ماننا پڑے گا کہ (نعوذ باللہ ) حضرت عیسی علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے ساتھ پہلو بہ پہلو بیٹھے ہیں اور درمیان میں کچھ بھی فاصلہ نہیں۔ورنہ پورے طور پر السی کے معنی متحقق نہیں ہو سکتے۔پس ان معنوں پرضد کرنا سراسر جہالت ہے۔استدلال نمبر ۳ "كَانَ اللهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (النساء : ۱۵۹) خدا تعالیٰ نے خود اپنی طاقت اور قدرت کا ذکر کر کے بتا دیا ہے کہ یہاں آسمان پر جانا ہی مراد ہے۔جواب الف :۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے موقع پر غار ثور میں جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو دشمنوں سے بچایا تھا تو اس کا ذکر سورۃ التوبۃ: ۴۰ میں کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ کیا اس موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی آسمان پر اٹھالئے گئے تھے؟ یا زمین پر ہی رکھ کر خدا تعالیٰ نے حضور کو محفوظ رکھا اور اپنی قدرت کا ثبوت دیا۔ب:۔قدرت کسی چیز کو چھپانے میں نہیں بلکہ دشمن کے سامنے رکھ کر محفوظ رکھنے میں ہے۔لہذا تمہارے اعتقاد کی رُو سے خدا تعالیٰ بزدل ٹھہرتا ہے۔کیا زمین پر حضرت عیسی کو رکھنے میں یہودیوں کا خوف تھا؟ (نعوذ بالله) حیات مسیح کی دوسری دلیل وَإِنَّهُ لَعِلْمُ لِسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرنَ بِهَا (الزخرف: ٢٣) ترجمہ بقول غیر احمدیان:۔حضرت عیسی قیامت کی نشانی ہیں۔پس تم اس میں مت شک کرو بلکہ اس پر ایمان لاؤ۔جواب نمبرا: انہ کی ضمیر کا مرجع حضرت عیسی کا ہونا ضروری نہیں بلکہ اس کا مرجع قرآن کریم یا آنحضرت مانے چاہئیں۔چنانچہ تفسیر معالم التنزیل میں زیر آیت طذ الکھا ہے: قَالَ الْحَسَنُ وَ جَمَاعَةٌ إِنَّهُ يَعْنِى اَنَّ الْقُرآنَ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ کہ حضرت امام حسن اور