مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 254 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 254

254 اس کا جواب یہ ہے کہ اگر حضرت عیسی کے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد ان کے پاس مال نہیں رہنا تھا تو مَا دُمْتُ حَيًّا (مریم: ۳۲) کی بجائے مَا دُمْتُ عَلَى الْأَرْضِ کہنا چاہیے تھا۔جس کا مطلب یہ ہوتا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ” میں جب تک زمین پر رہوں۔زکوۃ دیتا رہوں۔پس حضرت عیسی کو خدا تعالیٰ کا خاص طور پر زکوۃ دینے کا حکم بتاتا ہے کہ حضرت عیسی صاحب نصاب تھے اور جب تک زندہ رہے صاحب نصاب رہے۔دوسرا سوال اس آیت کے متعلق یہ ہے کہ حضرت عیسی آسمان پر جو نماز پڑھتے ہیں تو کس طرف منہ کر کے؟ اگر کہو کہ عرش خداوندی کی طرف منہ کر کے پڑھتے ہیں تو اس پر سوال یہ ہے کہ ان کو وہ کیسے معلوم ہوئی۔اگر کہو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بذریعہ وحی بتا دی ہوگی تو معلوم ہوا کہ حضرت مسیح اسلامی نماز اس لئے نہیں پڑھتے کہ یہ آنحضرت پر نازل ہوئی تھی بلکہ اس لئے کہ یہ خود ان پر نازل ہوئی ہے۔پس ثابت ہوا کہ ابھی تک موسوی شریعت منسوخ نہیں ہوئی۔اگر کہو کہ آنحضرت نے حضرت عیسی کو معراج کی رات عند الملاقات بتادی ہوگی تو یہ غلط ہے۔کیونکہ معراج کی رات جب حضرت عیسی آنحضرت سے ملے ہیں اس وقت تک ابھی نماز فرض ہی نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کے بعد فرض ہوئی۔اور نماز کے فرض ہونے کے بعد آنحضرت کے ساتھ ان کی ملاقات ثابت نہیں۔پھر سوال یہ ہے کہ حضرت عیسی دار العمل میں ہیں یا دار الجزاء میں ؟ اگر کہو دار العمل میں تو پھر ان پر نما ز وزکوۃ وغیرہ تمام اعمال کا بجالا نا فرض ہے۔اور اگر کہ دارالجزاء میں تو وہ دو قسم کا ہے (۱) دوزخ (۲) جنت۔حضرت عیسی اول الذکر میں تو جا نہیں سکتے۔پس معلوم ہوا کہ وہ جنت میں ہیں اور جنت کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ (الحجر: ٢٩) که جنتی جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔پس حضرت عیسی اب دنیا میں واپس نہیں آسکتے۔آٹھویں دلیل: - وَالسَّلَمُ عَلَى يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ اَمُوْتُ وَيَوْمَ أَبْعَثُ حَيًّا (مريم: ۳۴) ترجمہ:۔(حضرت عیسی کہتے ہیں ) کہ سلامتی ہے مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن میں مروں گا اور جس دن میں دوبارہ اٹھایا جاؤں گا۔استدلال :۔سلامتی کے یہ تینوں اوقات بعینہ اس سورت میں حضرت بیٹی کے لیے بھی آئے ہیں اور اگر بفرض محال حضرت عیسی زندہ ہیں اور یہود نا مسعود کے نرغے سے بچ کر آسمان پر جا بیٹھے ہیں تو اس