مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 236
236 هؤُلَاءِ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ۔( بخاری کتاب التفسیر باب وكنت عليهم شهید اما دمت فيهم جلد ۳ صفحه ۹۱ مصری و جلد۲ صفحه ۱۵۹ کتاب بدء الخلق مصری) ترجمہ:۔آنحضرت نے فرمایا کہ قیامت کے دن میری امت کے کچھ لوگ دوزخ کی طرف لے جائے جائیں گے تو میں کہوں گا کہ یہ تو میرے صحابہ ہیں۔جواب ملے گا تو نہیں جانتا کہ تیرے پیچھے انہوں نے کیا کیا۔اس وقت میں وہی کہوں گا جو اللہ تعالیٰ کے صالح بندے عیسی نے کہا تھا کہ میں ان کا اسی وقت تک کا نگران تھا جب تک ان میں تھا اور جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی ان کا نگہبان تھا۔نتیجہ :۔اس حدیث سے صاف نتیجہ نکلا کہ حضرت عیسی کی توفی کی صورت وہی ہے جو آنحضرت کی توفی کی ہے۔ورنہ آپ کا یہ فرمانا فَأَقُولُ كَمَا قَالَ درست نہیں رہتا۔اب دیکھو آنحضرت نے بعینہ وہی لفظ تَوَفَّيْتَنِی جو مسیح کے لئے استعمال ہوا ہے اپنے لئے استعمال فرمایا ہے۔پس تعجب ہے کہ آنحضرت کے لیے جب لفظ تو فی آئے تو اس کے معنی ”موت“ لئے جائیں مگر جب وہی لفظ حضرت مسیح کے متعلق استعمال ہو تو اس کے معنے آسمان پر اٹھا نا لئے جائیں۔ایک لطیفہ :۔اس کے جواب میں مؤلف محمدیہ پاکٹ بک لکھتا ہے : ایک ہی لفظ جب دو مختلف اشخاص پر بولا جائے تو حسب حیثیت و شخصیت اس کے جدا جدا معنے ہوتے ہیں۔دیکھیے حضرت مسیح اپنے حق میں نفس کا لفظ بولتے ہیں اور خدائے پاک بھی اب کیا 1۔۔۔۔۔۔خدا کا نفس اور مسیح کا نفس ایک جیسا ہے“ جواب:۔گویا آپ کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مثال حضرت مسیح کے بالمقابل ویسی ہی ہے جیسی مسیح کی اللہ تعالیٰ کے بالمقابل۔اور گویا آپ کے نزدیک آنحضرت کی حیثیت اور شخصیت مسیح کی حیثیت اور شخصیت سے مختلف نوعیت کی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ مؤلف محمد یہ پاکٹ بک بھی درپردہ الوہیت مسیح کا قائل ہے۔ورنہ آنحضرت اور مسیح کی حیثیت نبوت اور بشریت کے لحاظ سے نوع ہر گز مختلف نہیں اور نہ خدا کی مثال پر حضرت مسیح کا قیاس کیا جاسکتا ہے۔پس غیر احمدی کا جواب محض نفس کا دھوکہ اور قیاس مع الفارق ہے کیونکہ یہ تو درست ہے کہ انسان کا قیاس خدا پر نہیں کیا جا سکتا لیکن نبی کا قیاس نبی پر اور انسان کا قیاس انسان پر تو کیا جا سکتا ہے۔خود قرآن مجید میں ہے مَا كُنتُ بِدُعَا مِنَ الرُّسُلِ کہ اے محمد رسول اللہ ! کہہ دے کہ میں بھی پہلے انبیاء کی طرح