مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 234
234 جواب :۔اس حوالہ میں انجیل کا ذکر ہے مسیح کی ہجرت کا ذکر نہیں اور انجیل اس وحی کے مجموعہ کا نام ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام پر ان کی وفات تک نازل ہوتی رہی جس طرح قرآن مجید آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب زمانہ تک نازل ہوتا رہا۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّا أَوْحَيْنَا إلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلى نُوح و على (النساء:۱۲۴) یعنی اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم نے آپ پر اسی طرح وحی نازل کی ہے جس طرح نوح اور عیسی علیہ السلام اور دیگر انبیاء پر۔پس چشمہ معرف کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات ( جو ۱۲۰ برس کی عمر میں ہوئی ) کے تمیں برس کے قریب گزرنے پر عیسائی بگڑ گئے۔نہ یہ کہ حضرت عیسی کی زندگی ہی میں مسیح کی پرستش شروع ہو گئی تھی۔تَوَفِّی کے معنے حضرت امام بخاری نے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کی تفسیر میں حضرت ابن عباس کا ارشاد نقل کیا رض ہے: قَالَ ابْنُ عَبَّاسِ مُتَوَفِّيْكَ مُمِيتُكَ ( بخاری کتاب التفسير سورة مائده زیر آیت فلما توفيتنى المائدة : ۱۱۸) که حضرت ابن عباس کے فیصلہ کے بعد کسی دوسرے شخص کی بات قابل قبول نہیں اس حالت میں کہ جب قرآن مجید و احادیث ولغت و تفاسیر کے مندرجہ ذیل حوالجات بھی ان کی تائید میں ہیں۔( تفسیر ابن عباس کے متعلق نوٹ آگے ملاحظہ فرمائیں صفحہ ۲۳۷) لفظ تو فی باب تفعل کا مصدر ہے۔سو قر آن کریم میں جہاں کہیں بھی اس کا کوئی مشتق استعمال ہوا ہے جب اللہ تعالیٰ یا ملائکہ اس کا فائل ہوں یا صیغہ مجہول ہو اور غائب مفعول اس کا انسان ہو تو سوائے قبض روح کے اور کوئی معنے نہیں اور وہ قبض روح بذریعہ موت ہے۔سوائے اس مقام کے کہ جہاں لیل یا منام کا قرینہ موجود ہو تو وہاں قبض روح کو نیند ہی قرار دیا گیا ہے۔بہر حال قبضِ جسم کسی جگہ بھی مراد نہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں علاوہ متنازعہ فیہ جگہ کے ۲۳ جگہ لفظ تو فی کا مشتق استعمال ہوا ہے۔۲۱۔وَالَّذِينَ يَتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ ٣- تَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ -۴- حَتَّى يَتَوَفَّهُنَّ الْمَوْتُ ۵ - إِنَّ الَّذِينَ تَوَفُهُمُ الْمَلَكَةُ ٢ - تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا دومرتبه البقرة: ۲۴۱،۲۳۵) (آل عمران: ۱۹۴) (النساء: ١٦) (النساء: ۹۸) (الانعام: ۶۲)