مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 233 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 233

233 وفات مسیح ناصری علیہ السلام از روئے قرآن کریم پہلی دلیل : وكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيب الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَاَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (المائدة: ۱۱۸) مطلب: اللہ تعالیٰ کے اس سوال کے جواب میں کہ اے عیسی ! کیا تو نے نصاری کو تثلیث کی تعلیم دی تھی؟ آپ انکار کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے تعلیم تو کیا دینی تھی میری زندگی میں اور میرے سامنے یہ عقیدہ ظاہر نہیں ہوا۔میں ان کا نگران تھا ما دمت فيهم جب تک میں ان میں تھا۔پھر جب تو نے میری توقی کرلی تو تو ہی ان کا نگہبان تھا اور تو ہر چیز کا محافظ ہے۔استدلال نمبر :۔اس آیت میں حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے دوزمانے بتائے ہیں۔پہلا اپنی قوم میں حاضری کا زمانہ (مَا دُمْتُ فِیهِم ) اور دوسرا غیر حاضری کا ( كُنتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ ) اور ان دونوں زمانوں کے درمیان حد فاصل تَوَفَّيْتَنِی ہے۔گویا ان کی اپنی قوم سے غیر حاضری سے پہلے وفات“ ہے کیونکہ غیر حاضری کی وجہ تو فیتنی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ حضرت عیسی اپنی قوم میں حاضر ہیں یا غیر حاضر ؟ چونکہ غیر حاضر ہیں لہذا ان کی تو فی ہو چکی ہے۔استدلال نمبر ۲:۔اس آیت میں حضرت عیسی اقرار فرماتے ہیں کہ تثلیث پرستی کا عقیدہ میری زندگی میں نہیں پھیلا بلکہ میری توفی کے بعد پھیلا ہے اور اس زمانہ میں عیسائیوں کی تثلیث پرستی ایک کھلی حقیقت ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلَثَةِ (المائدة: ۷۴) لَقَدْ كَفَرَ الَّذِيْنَ قَالُوا إِنَّ اللهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ (المائدۃ:۱۸) کہ ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ خدا تین میں سے ایک ہے اور ان لوگوں نے کفر کیا جنہوں نے کہا کہ مسیح ابن مریم ہی خدا ہے۔پس صاف نتیجہ نکلا کہ حضرت عیسی کی تو فی ہو چکی ہے یعنی وہ فوت ہو چکے ہیں۔غیر احمدی :۔حضرت مرزا صاحب نے چشمہ معرفت صفحه ۴ ۲۵ طبع اول پر لکھا ہے: انجیل پر ابھی تہیں برس بھی نہیں گزرے تھے کہ بجائے خدا کی پرستش کے ایک عاجز انسان کی پرستش نے جگہ لے لی۔“ ( محمدیہ پاکٹ بک مؤلفہ مولانا محمد عبد اللہ صاحب معمار مرحوم امرتسری طبع اول مارچ ۱۹۵۰، صفحہ ۵۷۱ طبع دوم اپریل ۱۹۸۹ء)