مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 225 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 225

225 نے جب یہ خواب سنا اپنے منہ پر طمانچہ مار کے رونے لگا اور کہا۔مجھے قتل حسین سے کیا مطلب تھا۔“ (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل نمبر ۱۵ صفحه ۵۲۸) ۵۔آن ملعون طمانچہ بر روئے نحس خود ز دو گفت مرا چه کار با قتل حسین بود؟ ( مهیج الاحزان مجلس نمبر ۳ صفحه ۲۳۵) کہ اس ملعون (یزید ) نے اپنے منحوس چہرہ پر طمانچہ مارا اور کہا کہ مجھے قتل حسین سے کیا تعلق یا واسطہ تھا ؟ یزید نے اہل بیت رسالت کو طلب کر کے ان کو نہایت عزت وحرمت سے شام میں رہنے یا مدینہ منورہ کی طرف چلے جانے کا اختیار دیا، اور انہوں نے ماتم برپا کرنے کی اجازت چاہی جو منظور ہوئی ، اور ملک شام میں جس قدر قریش و بنی ہاشم تھے وہ ماتم وگر یہ زاری میں شریک ہوئے اور سات روز تک آنحضرت پر نوحہ وزاری کی۔روز هشتم یزید نے ان کو طلب کیا اور عذرخواہی کر کے ان کو شام میں رہنے کی تکلیف دی۔جب انہوں نے قبول نہ کیا تو محمل ہائے مزین ان کے واسطے آراستہ کئے اور خرچ کے لئے مال حاضر کیا اور ان سے کہا کہ یہ اس ظلم کا عوض ہے جو تم پر ہوا۔“ (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل نمبر ۱۵ صفحه ۵۳۲،۵۳۱ و مهیج الاحزان مجلس نمبر ۱۳ صفحه ۲۳۵) اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یزید نے خود امام حسین کے ماتم کی اجازت دی اور ملک شام میں جو ماتم ہوا وہ خود یزید کی اجازت سے ہوا تھا۔دوسرے یہ کہ امام حسین کے ساتھ جو سلوک ہوا اس کو یزید بھی ظلم سمجھتا تھا۔پس یہ کس طرح ممکن ہے کہ یزید با وجود اس کو ظلم قرار دینے اور سمجھنے کے خودا سے روا رکھتا۔ے۔یزید نے امام زین العابدین کو طلب کیا اور بخیال رفع تشنیع کہا خدا ابن مرجانہ ( ابن زیاد ) پر لعنت کرے۔اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو امام حسین جو کچھ وہ مجھ سے طلب کرتے میں ان کو دیتا اور ان کے قتل پر راضی نہ ہوتا۔آپ ہمیشہ مجھ کو خط لکھا کریں اور جو حاجت ہو مجھ سے طلب فرمائیں کہ میں بجالا ؤں گا۔“ ایک سوال (جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل نمبر ۵ صفحه ۵۳۲) خلاصتہ المصائب صفحہ ۳۰۲ مطبوعہ نولکشور وغیرہ کتب کی روایات کی بناء پر یزید کا امام حسین کے قتل پر آنسو بہانا ثابت ہے مگر جلاء العیون جلد ۲ باب ۵ فصل نمبر ۵ صفحہ ۳۷۸ پر درج ہے کہ جو امام حسین “ کو