مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 213
213 وَعِشْرَتِي - ( مسلم کتاب فضائل الصحابہ جلد مصری ) یعنی میں تم میں وفات پا کر دو چیزیں چھوڑ جاؤں گا۔ایک قرآن مجید اور دوسرے اپنے حقیقی متبع ( خلفاء) اس سے معلوم ہوا کہ رسول مقبول اپنی وفات کے بعد اگر کسی تحریر کے پکڑنے کا حکم دیتے تو وہ کتاب اللہ ہے۔۔یہ عجیب بات ہے کہ کلام اللہ جو ۲۳ سال تک نازل ہوتا رہا ہے جس میں اختتام پر یہ کہہ دیا ہے۔الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ (المائدة:۴) اس سے تو گمراہی کا سد باب نہ ہوا مگر آ۔کی تحریر سے گمراہی ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے۔۔ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ رسول مقبول حضرت علی کو خلیفہ بنانے لگے تھے مگر اس میں لَنُ تَضِلُّوا کی نفی غلط ٹھہرتی ہے کیونکہ سنی لوگ حضرت علی کو خلیفہ اول نہیں سمجھتے مگر شیعہ سمجھتے ہیں۔باوجود اس کے خود شیعوں کے آپس میں بیسیوں فرقے ہیں۔مثلاً آغا خانی، بوہرے، زیدی علی الا ہی، نصیری، اسمعیلی وغیرہ۔۱۰۔اگر حضرت عمر کا قلم دوات نہ لانا اس لئے کفر فتق ہے کہ آپ نے حکم کی تعمیل نہ کی تو حضرت علیؓ نے علاوہ اس حکم کی عدم تعمیل کے حدیبیہ کے موقع پر بھی ایک حکم کی قولاً وفعلاً عدم تعمیل کی ہے جہاں انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ میں ہرگز آپ کا نام نہیں مٹاؤں گا باوجود یکہ رسول اللہ نے حکم دیا تھا کہ اُمحُ اِسْمِی مگر حضرت علی نے کہا وَاللَّهِ لَا اَمْحُوكَ اَبَدًا حَتَّى مَحَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (بخارى كتاب الصلح باب كيف يكتب هذا ماصالح فلان بن فلان ) كه خدا کی قسم میں آپ کا نام کبھی نہیں مٹاؤں گا۔یہاں تک کہ خود آنحضرت نے اسے مٹا دیا۔تردید متعه جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہوئے تو عرب میں آٹھ دس قسم کے نکاح رائج تھے جن میں سے ایک متعہ یعنی میعادی نکاح بھی تھا۔جس طرح با وجود خود اپنے نقائص کے شراب ایک مدت تک حرام نہیں ہوئی اسی طرح متعہ بھی جنگ خیبر تک حرام نہیں ہوا۔حضرت علی کرم اللہ کی روایت بخاری ( بخاری کتاب النکاح باب النهي عن نكاح المتعة ) میں پائی جاتی ہے کہ رسول کریم نے اعلان کیا کہ متعہ حرام کر دیا گیا ہے۔پھر جنگ اوطاس ( ترمذی کتاب النکاح باب ما جاء في نكاح المتعة ) پر جو فتح مکہ کے دنوں میں ہوئی تھی رسول مقبول نے متعہ کی اجازت تین دن کے لئے دی تھی (مشکوۃ