مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 208
208 صورت میں تقیہ نہ رہا۔ا۔اگر حضرت علی کا خلافت حضرت ابوبکر سے لے کر حضرت عثمان تک جو کہ ۲۵ سال کا عرصہ ہے کافر خلفاء کی بیعت کرنا اور ان کی اطاعت کرنا اور ان کو سچا خلیفہ ماننا بسبب تقیہ کے ہوسکتا ہے تو اگر کوئی خارجی یہ کہے کہ حضرت علیؓ کا ۲۳ برس تک رسول مقبول عالیہ کو مانا بھی تقیہ کے سبب سے ہے تو جو جواب ان کا شیعہ دیں گے وہی جواب ہمارا بھی ہوگا۔پس تقیہ ماننے کی صورت میں دلیل اسلام حضرت علی کی اُڑ جائے گی۔۲۔یہ طبعی قاعدہ ہے کہ ظاہر کا اثر باطن پر اور باطن کا اثر ظاہر پر پڑتا ہے۔اگر کسی شخص کے دل میں کسی کا بغض ہو لیکن ظاہر میں اس سے محبت کرے اور تعظیم سے پیش آئے تو آہستہ آہستہ وہ بغض دور ہو جائے گا۔یہی حال ایمان کا ہے اگر اس کے مطابق نیک عمل نہ کیا جائے تو وہ آہستہ آہستہ دل سے مفقود ہو جاتا ہے۔پس تقیہ اس لئے نا جائز ہوا کہ اس پر عمل کرنے کی صورت میں ایمان کے جاتے رہنے کا اندیشہ ہے۔۳۔عقلاً کفر اور ایمان کے بارے میں چار گروہ ہو سکتے ہیں:۔الف۔دل میں اور ظاہر میں دونوں میں ایمان ہو۔ب۔دل میں کفر اور ظاہر میں بھی کفر۔ج۔دل میں کفر اور ظاہر میں ایمان۔و۔دل میں ایمان مگر ظاہر میں کفر۔قرآن شریف نے پہلے تینوں گروہوں کا ذکر کیا ہے مگر چوتھا گروہ کہ دل میں ایمان مگر ظاہر میں کفر ہو کا ذکر نہیں کیا۔اس لئے کہ یہ گروہ ہو نہیں سکتا۔کیونکہ ایمان ایسی چیز نہیں ہے جو دل میں چھپ سکے سوائے اس کے کہ وقتی طور پر ہو اور وہ بھی کمزور ایمان والا کرے گا اور وہ مجرم ہو گا۔كَمَا قَالَ اللهُ تَعالى - إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمُ (النحل : 1) ۴۔منافق اور کافر میں بلحاظ کفر کے کوئی فرق نہیں ہے مگر باوجود اس کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (النساء : ۱۴۶) کہ منافقوں کو سب سے زیادہ سزا ملے گی۔اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ان لوگوں نے دلی عقیدہ کو چھپایا۔پس جب کفر کے چھپانے پر سزا بڑھ جاتی ہے تو ایمان کے چھپانے پر بدرجہ اولی بڑھ جانی چاہئے۔