مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 204
204 تردید دلائل تقیه تقیہ کی تعریف از کتب شیعه جو مومن به اطمینان قلب موافق شرع ره که بخوف دشمن دین فقط ظاہر میں موافقت کرے دشمن دین کی تو دیندار ممدوح و تقی ہے“۔( قول فیصل مصنفہ مرزا رضا علی صفحہ ۳) قوله:۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تقیہ کیا جبکہ صلح حدیبیہ میں رسول اللہ اور بسم اللہ کا لفظ کاٹ دیا۔[بخاری کتاب الصلح باب كيف يكتب هذا ما صالح فلان بن فلان ] مسلم كتاب الصلح باب كيف يكتب هذا ما صالح فلان بن فلان ] 66 اقول :۔یہ تقیہ نہیں بلکہ در حقیقت ایسا ہی ہونا چاہیے تھا کیونکہ بوجہ معاہدہ فریقین دونوں فریقوں کا لحاظ ہونا تھا اس واسطے آپ نے کفار کا لحاظ کرتے ہوئے بسم اللہ کی بجائے بِاسْمِكَ اللهُمَّ (احمد بن حنبل مصری جلد ا مسند علی بن ابی طالب لکھوایا اور آپ نے یہ انکار نہیں کیا کہ میں رسول اللہ نہیں ہوں بلکہ اقرار کیا ہے اور فرمایا تھا کہ اَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ عَبْدِ اللهِ وَ رَسُولُ اللهِ۔( بخاری کتاب الصلح) قوله : إلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَيِنَ بِالْإِيْمَانِ الخ) (النحل: ۱۰۷) کہ کافر کے غلبہ کے وقت تقیہ جائز ہے۔اقول : - جواب نمبر : کفر دو قسم کا ہے۔(۱) عقائد (۲) اعمال۔عقائد۔انسان کے دل کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ان میں اکراہ ممکن نہیں کیونکہ کسی کے عقائد کو کوئی دوسرا شخص جبر انہیں بدل سکتا کیونکہ جبر اور اکراہ کے معنی تو یہ ہیں کہ قوت فیصلہ کو معطل کر دیا جائے۔عقائد میں اکراہ اس لئے ممکن نہیں کہ ان کے بدلنے یا نہ بدلنے میں بہر حال قوت فیصلہ کا دخل ہوتا ہے۔مثلاً زید اللہ تعالیٰ کی ہستی کا قائل ہے۔بکر اُس کو کہتا ہے کہ اگر تم خدا کا انکار نہ کرو گے تو میں تمہیں قتل کردوں گا۔اب زید کو دو چیزوں کے درمیان فیصلہ کرنا ہے۔یا تو خدا کی ہستی پر ایمان کو مقدم کرے یا اپنی زندگی کو۔اگر وہ اپنی زندگی کو مقدم کر کے خدا کی ہستی کا انکار کر دیتا ہے تو والا مَنْ أُكْرِهَ میں نہیں آتا کیونکہ یہ انکار اس کی قوت فیصلہ کے استعمال کے نتیجہ میں ظاہر ہوا ہے۔