مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 203 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 203

203 اس نے مجھے بھی تکلیف دی ہے۔جواب نمبر ۲:۔کتاب نهجة البلاغة میں شیخ ابن مظہر نے ایک بات کہی جس سے تمام جھگڑے دور ہو جاتے ہیں اور وہ یہ ہے: إِنَّه لَمَّا وَعَظَتْ فَاطِمَةُ اَبَا بَكْرٍ فِى فِدْكِ كَتَبَ لَهَا كِتَابَاوَ رَدَّ عَلَيْهَا ، یعنی جب فاطمہ نے ابوبکر کو فدک کے معاملہ میں بہت نصیحت وغیرہ کی تو انہوں نے اس کو نوشتہ لکھ دیا یعنی فدک اس کو دے دیا۔اگر یہ روایت درست ہے تو حضرت ابو بکر پر طعن کا کوئی موقع ہی نہ رہا۔فَأَقْسَمَ عَلَيْهَا لِتَرْضى فَرَضِيتُ (تاریخ النمیس جلد ۲ صفر ۱۹۳ مطبوعہ مصر) کہ حضرت فاطمہ کو راضی ہونے کے لئے قسم دی گئی ، پس وہ راضی ہوگئیں۔فَمَشَى إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ وَشَفَعَ لِعُمَرَ وَطَلَبَ إِلَيْهَا فَرَضِيَتْ عَنْهُ“۔(شرح نہج البلاغہ جلد جز و نمبر ۲ صفحہ ۷۶ ) کہ حضرت ابوبکر حضرت فاطمہ کے ہاں گئے اور حضرت عمرؓ کی سفارش کی۔چنانچہ حضرت فاطمہ حضرت عمرؓ سے بھی راضی ہو گئیں۔پھر آیت مَا آفَاءَ اللهُ عَلى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَ الْيَتَى وَالْمَسْكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَى لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ وَمَا الكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (الحشر : ٨) ترجمہ : جو پہنچایا اللہ نے اپنے رسول کو ان بستی والوں میں سے پس اللہ اور رسول اور قرابت والوں اور یتیموں اور فقیروں اور مسافروں کے لئے ہے کہ نہ ہووے ہاتھوں ہاتھ لینا درمیان دولتمندوں کے تم میں سے اور جو کچھ دے تم کو رسول اسے لے لو اور جو منع کرے تم کو باز رہو۔اور ڈرواللہ سے یقیناً اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ فدک کے مال میں کتنے حصہ دار تھے۔یہ باغ فدک مال فئے میں سے تھا اور مال فئے میں ”رسول“ کا حصہ تو ہے مگر محمد کا نہیں یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق بارغ فدک سے حضور کی ذاتی حیثیت میں نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب رسالت کے باعث تھا۔پھر اس میں وراثت کا کیا سوال؟