مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 185
185 جز خاک آستان تو مسجود خلق نیست اے سجدہ گاہ جان رواں روضہ بہا گردید انبیاء ہمہ ساجد بر این تراب اے قبلہ گاہ کروبیاں روضہ بہا پھر صفحہ ۱۴۹ پر ہے: اے مقصد مقصود زماں روضہ ابھی اے معبد و معبود جہاں روضہ ابھی اے معنی اسرار نہاں روضہ ایہی اے سجدہ گاہ عالمیاں روضہ ابھی اس شریعت اسلامیہ میں جن عورتوں سے نکاح حرام ہے ان کی تفصیل دی گئی ہے مگر برخلاف اس کے شریعت بہائیہ کتاب الاقدس میں صرف ماں سے نکاح حرام کیا گیا ہے۔باقیوں کا ذکر نہیں۔۳۔اسلامی شریعت میں چار تک نکاح کو جائز رکھا ہے مگر برعکس اس کے شریعت بہائیہ میں دو سے زیادہ عورتیں نا جائز ہیں۔(دیکھو کتاب الاقدس صفحه ۱۳۰ مطبع الناصری بمبئی ۱۳۱۴ھ ) ۴۔شریعت اسلامی میں مہر حسب توفیق و حیثیت جس قدر چاہیں مقرر کیا جاسکتا ہے مگر شریعت بہائیہ کتاب اقدس میں مہر کی مقدار شہروں میں ۱۹ مثقال سونا اور دیہات میں ۱۹ مثقال چاندی اور زیادہ سے زیادہ ۹۵ مثقال سونا اور ۹۵ مثقال چاندی علی الترتیب ہوسکتا ہے اس سے زیادہ مہر باندھنا حرام ہے۔( الاقدس صفحہ ۱۳۵ مطبع الناصری بمبئی ۱۳۱۴ھ ) ۵ اسلامی شریعت میں تین طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا مگر شریعت بہائیہ کتاب اقدس میں تین طلاق کے بعد رجوع ہو سکتا ہے۔(الاقدس صفحہ ۲۰ مطبع الناصری بمبئی ۱۳۱۴ھ ) ۶۔اسلامی شریعت میں سود حرام اور خدا سے جنگ کرنے کے برابر ہے مگر شریعت بہائیہ میں جائز ہے۔(دیکھو اشراقات - اشراق نم صفحہ ے نیا ایڈیشن صفحه ۴۳)۔اسلامی شریعت میں مردوں کے لئے سونے چاندی کے برتنوں اور ریشمی لباس کا استعمال نا جائز ہے مگر شریعت بہائیہ میں جائز ہے۔مَنْ اَرَادَانُ يَسْتَعْمِلَ أَوَانِيَ الذَّهَبِ وَالْفِضَةِ لَا بَأسَ عَلَيْهِ۔“ الاقدس صفحریم امطبع الناصری بمبئی ۱۳۱۴ھ )۔سرکا منڈوانا جو شریعت اسلامیہ میں جائز تھا اس کو شریعت بہائیہ نے ناجائز قرار دیا ہے۔"لَا تَحْلِقوا رُؤُسَكُمْ قَدْ زِيْنَهَا الله بِالْشَعْر یعنی اے اہل بہاء! اپنے سروں کو ہرگز نہ منڈوانا کہ بالوں سے ان کی زینت ہے۔(کتاب الاقدس صفحهیم مطبع الناصری بمبئی ۱۳۱۴ھ ) ۹۔شریعت اسلامیہ میں کھلے طور پر گانے بجانے کی ممانعت ہے مگر بر خلاف اس کے کتاب