مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 184
184 الواحد التاسع في حرمة صلوة الجماعة الأصلوة المیت۔‘ برخلاف شریعت اسلام کے نماز با جماعت سوائے نماز جنازہ کے حرام ٹھہرائی گئی ہے۔نقطةۃ الکاف صفحہ ۲۳۰ میں مرزا جانی بابی لکھتے ہیں کہ میں نماز جمعہ پڑھا کرتا تھا مگر جب علی محمد باب نے دعویٰ کیا اور اپنی کتاب فروع میں نماز جمعہ کوحرام ٹھہرایا تو میں نے نماز جمعہ چھوڑ دی۔ے۔کتاب الاقدس عربی صفحه ۱۸ و ۱۹ مطبع الناصری بمبئی ۱۳۱۴ھ میں لکھتا ہے کہ باب نے لڑکے اور لڑکیوں کے معاملہ نکاح میں کسی ولی یا کسی وکیل یا گواہ کی ضرورت نہیں رکھی بلکہ لڑکے لڑکی کی باہمی رضا مندی کافی رکھی ہے لیکن بہاء اللہ ان کی رضا مندی کے ساتھ والدین کی رضا مندی بھی ضروری قرار دیتا ہے اور ہر دو متضاد حکموں سے ظاہر ہے کہ باب اور بہاء اللہ دونوں کے حکموں میں جو اختلاف پایا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں کا منبع ایک نہیں ہے اور دونوں حکم خود ساختہ ہیں۔ان مشتے از خروارے احکام سے شریعت بابیہ کے غیر معقول ہونے کا بخوبی پتہ لگ جاتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہ ان سے نسخ شریعت محمدیہ کا ادعا بھی ثابت ہے۔مزید چند حوالے بھی ذیل میں دیئے جاتے ہیں۔بہاء اللہ کی تعلیم اسلام کے خلاف اسلام کی تعلیم ہے کہ سوائے ایک خدا کے اور کوئی معبود نہیں مگر اس کے بالمقابل بہاء اللہ کی تعلیم ملاحظہ ہو۔ا۔اطرازات اطر از ششم صفحہ ۱۳ مطبوعہ آگرہ میں بہاء اللہ لکھتے ہیں۔إِنَّنِی اَنَا اللَّهُ لَا إِلهُ إِلَّا أَنَا الْمُهَيْمِنُ الْقَيُّومُ “ پھر ۲۔تجلیات (تجلی چہارم) صفحہ ۵ میں لکھتے ہیں : إِنَّنِي أَنَا اللَّهُ لَا إِلهُ إِلَّا أَنَارَبُّ كُلَّ شَيْءٍ وَإِنَّ مَا دُونِى خَلْقِي إِنَّ يَا خَلْقِی إِيَّايَ فَاعْبُدُونِ کہ میں خدا ہوں۔میرے سوا تمام مخلوق ہے اس لئے صرف میری ہی عبادت کرو۔۳- کتاب مبین صفحہ ۲۸۶ میں بہاء اللہ لکھتا ہے : لَا اِلهَ إِلَّا أَنَا الْمَسْجُونُ الْفَرِيدُ کہ کوئی خدا نہیں مگر میں اکیلا ( بہاء اللہ ) جو قید ہوں۔بہاء اللہ کے مرید بہاء اللہ کے روضہ کی پرستش کرتے ہیں۔دیوان نوش صفحہ کے بہاء اللہ کے روضہ کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے۔