مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 157
157 نانک اور عباداللہ گیانی صفحه ۱۵۴) بابا نانک صاحب کا نام مسلمانوں کا سا تھا گیانی گیان سنگھ صاحب لکھتے ہیں کہ مسلمان بابا صاحب کو ” نانک شاہ کے نام سے پکارتے تھے (تواریخ گر و خالصہ صفحہ ۱۲۸ بحوالہ سکھ گوڑ و صاحبان اور مسلمان ایک تاریخی جائزہ از عباد اللہ گیانی صفحہ ۳) اور جنم ساکھی بالا میں 'نانک شاہ ملنگ“ لکھا ہے۔(جنم ساکھی بالا صفحہ ۲۸ بحوالہ سکھ گوڑ و صاحبان اور مسلمان ایک تاریخی جائزہ از عباد اللہ گیانی صفحہ۳) یا در ہے کہ ملنگ مسلمان فقیروں کے ایک فرقہ کا نام ہے ( مہاں گوش مصنفہ سردار کا ہن سنگھ صاحب آف نابھہ ) اور ولی اللہ ، درویش، ملنگ یہ سب مسلمان فقیروں کے مخصوص القاب ہیں (ملاحظہ ہو وراں بھائی گورداس وار ۲۳۔پوری ۳۰ بحوالہ سکھ گور و صاحبان اور مسلمان ایک تاریخی جائزہ از عباداللہ گیانی صفحہ ۳)۔بابانا تک صاحب کی تعلیم گیانی گیان سنگھ صاحب کا بیان ہے کہ مسٹرکنیم نے اسلامی تاریخوں کے حوالجات سے تحریر کیا ہے کہ بابا نانک صاحب کے ہمسایہ میں سید میر حسن صاحب نے جو اس علاقہ میں اولیاء کرامتی کی صلح کل اور بے لاگ پیر مانے ہوئے تھے اپنا سارا دینی و دنیاوی علم بابا نانک صاحب کو پڑھایا اور بڑے بڑے راہ حق کے بھید بتائے ( حاشیہ تواریخ گر و خالصہ صفحہ ۸۶ بحوالہ ہمارا نا نک اور عباداللہ گیانی صفحہ ۵ ) اور یہ بھی لکھا ہے کہ جناب بابا نانک صاحب نے سرسہ شریف میں خواجہ عبدالشکور صاحب کے مزار پر چلہ کیا۔( تواریخ گر و خالصہ صفحہ ۲۲۴) بابا نانک صاحب کا السلام علیکم کہنا قرآن شریف میں مرقوم ہے: وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَمُ لَسْتَ مُؤْمِنًا (النساء : ۹۵) یعنی نہ کہو اس شخص کو جو تمہیں السلام علیکم کہے کہ تو مسلمان نہیں۔اس ارشاد کے مطابق جو ہم کو السلام علیکم کہے گا ہم اسے مسلمان کہنے پر مجبور ہیں۔بھائی گورداس جی نے بھی لکھا ہے کہ آپس میں ملتے وقت السلام علیکم کہنا مسلمانوں کا کام ہے (وار ۲۳۔پوڑی ۳۰) اور یہ ثابت ہے کہ جناب بابا صاحب نے مسلمانوں کو ملتے وقت السلام علیکم کہا جس کے جواب میں ہر دو فریق نے وعلیکم السلام کہا۔