مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 156 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 156

156 ایڈیشن دوم ساکھی نمبر ۳۷ صفحہ ۲۱۶، بحوالہ سکھ گوڑ و صاحبان اور مسلمان ایک تاریخی جائزہ از باداللہ گیانی صفی ) ) اور ممالک اسلامی میں آپ کے مقامات کو نانک قلندر یا ولی ہند کے دائرہ کے نام سے پکارا جاتا ہے ( تواریخ گر و خالصہ صفحہ ۳۹۶ مصنفہ گیانی گیان سنگھ، بحوالہ سکھ گوڑ و صاحبان اور مسلمان ایک تاریخی جائزہ از عباد الله گیانی صفحیم) قلندر مسلمان فقیروں کے لیے مشہور لفظ ہے ( ناواں تے تھاواں دا کوش مصنفہ ماسٹر متاب سنگھ ) اور گیانی گیان سنگھ نے لکھا ہے کہ مکہ شریف میں بابا نانک کا مکان مسجد کی شکل پر بنا ہوا ہے جو ولی ہند کے نام سے مشہور ہے (تواریخ گر و خالصہ صفحہ ۴۴۲ بحوالہ ہمارا نا نک اور عباد اللہ گیانی صفحہ ۳۷) اور عرب میں بابا صاحب ولی ہند کے نام سے مشہور ہیں اور آپ کے مکانات مسجدوں کی شکل میں بنے ہوئے ہیں ( تواریخ گر وخالصہ صفحہ ۴۴۵ و ناواں تے تھاواں دا گوش صفحه ۳۵۰ بحوالہ ہمارا نا نک اور عباد اللہ گیانی صفحہ ۳۷) اور بغداد کے مسلمان بابا صاحب کو مسلمان پیر خیال کرتے ہیں ( تواریخ گر و خالصہ صفحہ ۶۲ مصنفہ گیانی گیان سنگھ مطبوعہ وزیر ہند پریس امرتسر ۱۹۲۳ء) اور ہزارہ کے علاقہ میں ایسے لوگ آباد ہیں جو اپنے آپ کو نا نک ولی کے مرید بتاتے ہیں۔(تواریخ گر و خالصه صفحه ۴۶۴) بابا صاحب کی وفات پر مسلمانوں کا دعویٰ بابا صاحب کی وفات پر بھی مسلمانوں نے پُر زور اصرار کیا کہ ہم آپ کی لاش مبارک کو جلانے نہیں دیں گے اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ آپ پکے مسلمان اور حاجی ہیں ( تواریخ نگر و خالصہ صفحہ ۶۳ مصنفہ پروفیسر سندر سنگھ بحوالہ سکھ گوڑ و صاحبان اور مسلمان ایک تاریخی جائزہ از عباد اللہ گیانی صفحه ۵۹) سردار خزان سنگھ صاحب نے بھی مسلمانوں کے اس اصرار کی وجہ یہی بتائی ہے کہ وہ آپ کو مسلمان یقین کرتے تھے۔(ہسٹری اینڈ دی فلاسفی آف دی سکھ ریلی جن صفحہ ۱۰۶ بحوالہ سکھ گوڑ وصاحبان اور مسلمان ایک تاریخی جائزہ از عباداللہ گیانی صفحه ۵۹) بابا نانک صاحب کے اسلام پر ایک شہادت گوردوارا کے ٹربیونل کے جوں نے مقدمہ نانک کے فیصلہ میں لکھا۔کچھ لوگوں کا خیال ہے (دیکھو ہیوز صاحب کی ڈکشنری آف اسلام صفحه ۵۸۳ تا ۵۹۱) کہ گرو نانک صاحب نے اپنے خاص اصول اسلام سے لئے ہیں۔یہ بات پکی ہے کہ بابا صاحب نے اپنے آپ کو اسلام کا مخالف ظاہر نہیں کیا اور اس نے ایک مسلمان فقیر کی شکل میں مکے کی یا ترا کی۔( اداسی سکھ نہیں صفحہ ۲۲ بحوالہ بحوالہ ہمارا