مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 147
معنی موت دینے ہی کے ہیں۔147 ابن مریم مر گیا حق کی قسم داخل جنت ہوا وہ محترم مارتا ہے اس کو فرقاں سر بہ سر اس کے مرجانے کی دیتا ہے خبر (در سیمین اردو) پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے۔کیونکہ نہ صرف یہ کہ ان کی طبعی زندگی کا خاتمہ ہو گیا بلکہ ان کی تعلیم بھی مرگئی۔ان کی تعلیم کے ثمرات مٹ گئے۔مگر ہمارا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہے۔اس کی تعلیم زندہ ہے۔اس کے فیوض روحانیہ کی نہر اب بھی جاری ہے اور اس کی اطاعت اور فرمانبرداری انسان کو اعلیٰ ترین مقامات پر پہنچا سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس زمانہ کے مامور حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے فرمایا۔قَدْ مَاتَ عِيسَى مُطْرقًا وَّ نَبِيِّنَا حَيٌّ وَ رَبِّي إِنَّهُ وَافَانِي کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے لیکن ہمارا نبی زندہ ہے۔خدا کی قسم میں نے اس کے فیوض کو خود تجربہ کیا ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھو مضمون درباره وفات مسیح علیه السلام صفحه ۲۳۳) دلیل نمبر ۶ مسیح کا مردوں کو زندہ کرنا اہل اسلام نے از روئے قرآن تسلیم کیا ہے؟ الجواب :۔قرآن نے جن معنوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق مردہ زندہ کرنے کا محاورہ بولا ہے انہی معنوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بھی تو مردے زندہ کرنے کا ذکر فرما دیا ہے:۔یایھا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيْبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ (الانفال: ۲۵) اے مومنو! اللہ اور رسول کا کہا مانو۔جب وہ تم کو بلائے تا کہ تم کو زندہ کرے۔اب یہی لفظ اُخي حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق استعمال ہوا ہے اور یہی یحیی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق۔یہ ہمارے علماء کی بدقسمتی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے تو جسمانی مردے زندہ کرنا مراد لیں اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے روحانی مردے۔۲۔پھر قرآن میں موتی ( یعنی مردوں ) کا مفہوم بیان کر دیا ہے۔فرمایا: فإنك لا تُسْمِعُ الْمَوْلى (الروم: ۵۳ ) کہ تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔اس کے متعلق حافظ نذیر احمد صاحب دہلوی اپنے ترجمہ قرآن میں لکھتے ہیں:۔غرض یہ ہے کہ کا فر مردے اور بہرے ہیں ان میں سننے اور سمجھنے کی