مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 132
132 چاہتے ہیں۔تو اس نے جواب دیا۔”کون ہے میری ماں؟ اور کون ہیں میرے بھائی؟ اپنے شاگردوں کی طرف منہ کر کے کہا : میری ماں اور میرے بھائی تو یہ ہیں جو خدا کا کلام سنتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔(لوقا ۸/۲۱) گویا اس کی ماں اور اس کے بھائی خدا کے کلام کو سنتے اور اس پر عمل نہ کرتے تھے۔کیونکہ اگر وہ واقعی خدا کی مرضی پر چلنے والی اور اس کی باتوں پر عمل کرنے والی ہوتی تو وہ بیسوع کے بیان کردہ معنوں کی رو سے اس کی روحانی ماں بھی ٹھہرتی ہے۔تو اس صورت میں میسوع پر اس کی دونی عزت لازم آتی مگر اس کا کون ہے میری ماں“ کہنا اور پھر ماں کے معنے بیان کر کے اپنے شاگردوں کو اس میں شامل کرنا اور جسمانی ماں کو اس سے باہر نکالنا صاف طور پر ثابت کرتا ہے کہ اس کی ماں اس پر ایمان نہ لائی۔لہذا انجیلی یسوع امه صديقة کا مصداق نہ رہا۔مندرجہ بالا استدلال انجیل کی اس عبارت سے اور زیادہ قوی ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے بھائی بھی اس پر ایمان نہ لائے تھے۔(یوحنا ۷/۵) کیا کوئی عیسائی موجودہ انجیل میں سے کوئی ایک ہی حوالہ ایسا پیش کر سکتا ہے کہ جس میں یہ لکھا ہو کہ یسوع کی ماں مریم یسوع پر ایمان لائی تھی؟ ہر گز نہیں۔۳۔ماں سے بدسلوکی قرآن مجید نے اپنے مسیح علیہ السلام کو برا بوَالِدَتی (مریم: ۳۳) قرار دیا ہے اور یوں بھی فَلَا تَقُل نَّهُمَا أَن (بنی اسرائیل: (۲۴) کے عام حکم سے انبیاء علیہم السلام کا استثنا نہیں۔لہذا حضرت عیسی علیہ السلام اپنی والدہ کے کامل طور پر وفادار تھے اور اس سے انتہائی طور پر نیک سلوک کرتے تھے مگر انجیل کا یسوع اپنی ماں کو کون ہے میری ماں ! ( متی ۱۲۱۴۶د مرقس ۳/۳۳) ”اے عورت مجھے تجھ سے کیا کام (یوحنا ۲/۴) کے الفاظ سے یاد کرتا ہے۔گویا اپنے آپ کو اس سے کلی طور پر مستغنی اور بے تعلق قرار دیتا ہے اور اس کی نافرمانی کرتا ہے۔ایسا آدمی تو یسوع کے فتوے کے مطابق واجب القتل ہے۔(متی ۱۵/۴ و رومیوں ۱/۳۲) لہذا وہ برا بِوَالِدَتی (مریم: ۳۳ ) کا مصداق نہ رہا۔۴۔پاک انسان ہونا۔قرآن مجید نے اپنے مسیح علیہ السلام کے متعلق آئذنهُ بِرُوحِ الْقُدْسِ (البقرة: ۲۵۴) فرمایا ہے گویا وہ بہت پاک اور مقدس انسان تھے۔جس طرح کہ خدا تعالیٰ کے تمام انبیاء ہوتے ہیں مگر انجیل کا یسوع انجیل کے رو سے ایک پاک کریکٹر کا انسان ثابت نہیں ہوتا۔