مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 98 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 98

98 گا۔یوحنا ۲/۱(۳) نبی کو عنتی مانا پڑتا ہے (۴) توریت کا انکار کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ اس میں کفارہ کا ذکر نہیں (۵) خدا غیر عادل ٹھہرتا ہے کہ ناحق اپنے بیٹے کوسولی دی۔۳۵۔یسعیاہ ۵۵/۷۔وہ جو شریر ہے اپنی راہ کو ترک کرے اور بد کردار اپنے خیالوں کو۔اور خداوند کی طرف پھرے کہ وہ اس پر رحم کرے گا۔اور ہمارے خدا کی طرف کہ وہ کثرت سے معاف کرے گا۔اس میں گناہوں کی معافی کا ذریعہ ترک گناہ بتایا ہے نہ کہ کفارہ۔۳۶۔اگر کفارہ سچ ہے تو خدارحیم نہیں۔کیونکہ اس نے بہر حال سزا دے لی۔پھر وہ رحم کہاں برتتا ہے؟ عیسائیوں کے مزعومہ عدل کو پورا کر لیا۔۳۷۔سزا کی غرض بندہ کی اصلاح ہے۔بیٹے کو سزا دے کر بندے کی کیا اصلاح ہوئی۔اس سے خدا تو خوش نہیں ہوتا۔نہ نیکی سے اسے فائدہ ہے اور نہ بدی سے کوئی نقصان۔پس اصل غرض سزا کی اصلاح نفس ہے۔جب وہ نہ ہوئی تو کفارہ بے فائدہ۔نیز کفارہ ساز گناہ کی سزا کی غرض سے ناواقف معلوم ہوتا ہے۔۳۸۔یسوعی کہتے ہیں کہ کفارہ ہو سکتا ہے۔جیسے ایک بادشاہ کا قرض دار جب اپنا قرض ادانہ کر سکے تو بادشاہ کا بیٹا اگر اس قرض کو ادا کر دے تو وہ چھوٹ جاتا ہے۔اسی طرح جب لوگوں کے گناہ بیٹے نے اٹھا لیے تو وہ سزا سے بری ہو گئے۔مگر اتنا نہیں سوچا کہ جب بیٹا اتنا اختیار رکھتا ہے کہ اپنے خزانے سے دے دے اور رحم کرتا ہے تو کیا بادشاہ رحم نہیں کر سکتا ؟ ۳۹۔گناہوں کی معافی کے ذرائع۔تواریخ ۱۲ تا۱۷۱۱۴ اپنے تئیں عاجز کرنا، دعامانگنا، خدا کا مونہہ ڈھونڈنا ، برے را ہوں سے پھرنا۔اگر یہ ذرائع انسان اختیار کرے تو بغیر کفارہ گناہ معاف ہوتے ہیں۔۴۰۔متی ۱۲/۳۱۔روح کے خلاف کا کفر معاف نہ ہوگا۔اس سے معلوم ہوا کہ یسوع کے نزدیک گناہ دو قسم کے ہیں۔صغائر اور کبائر۔کبائر بغیر سزا کے معاف نہیں ہو سکتے۔پس کفارہ باطل کیونکہ کفارہ سب گناہوں کو یکساں معاف کرتا ہے۔۴۱۔متی ۷/۱۳۔نجات کی راہ مشکل اور تنگ بتایا ہے۔جو بہت محنت اور جانفشانی کا کام ہے حالانکہ کفارے کی راہ تو تنگ نہیں جو مرضی آئے کرے پس کفارہ نجات کے لیے نہیں۔۴۲۔خدا قربانی پسند نہیں کرتا بلکہ رحم پسند کرتا ہے۔(متی ۱۲/۷) لہذا کفارہ باطل ہے۔۴۳۔کفارہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ اعمال کی قطعاً ضرورت نہیں۔مجرد ” ایمان ہی کافی ہے۔