مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 81
81 تحقیقی جواب : مسیح کے لئے کل اور آج یکساں ہونا، بلکہ اس کے علم کا ازلی وابدی ہونا محض دعویٰ ہے جو محتاج دلیل ہے۔بلکہ خود انجیل سے اس کی تردید ہوتی ہے۔مثلاً :۔ا۔انجیر کے درخت کا علم نہ ہوا کہ اس میں پھل ہے یا نہیں۔(متی ۱ تا ۲/۸ و مرقس ۲/۲۳) ۲۔”میرے کپڑے کو کس نے چھوا ؟ (لوقا ۴۷، ۴۵ ۹٫ و مرقس ۵/۳۰) ساتویں دلیل:۔حضرت مسیح کا بے باپ پیدا ہونا۔جواب: اگر مسیح اس وجہ سے خدا ہو سکتا ہے کہ وہ بے باپ تھا تو آدم تو ڈبل خدا ہونا چاہیے کیونکہ مسیح تو صرف بے باپ ہی تھا۔مگر آدم بے باپ ہی نہ تھا بلکہ ماں بھی اس کی کوئی نہ تھی۔اس طرح ملک صدق سالم بھی خدا مجسم ہونے کا حقدار نہ تھا۔کیونکہ وہ بھی بغیر ماں باپ کے تھا۔دیکھو عبرانیوں باب ۷ آیت ۳۔پھر علاوہ ازیں تمام وہ حیوانات جو ابتدائے آفرینش میں خدا نے بے باپ اور ماں کے پیدا کئے سب کے سب خدا مجسم ہونے چاہئیں۔اچھا ان کو جانے دیجیے۔اب موجودہ لاکھوں کروڑوں کیڑے مکوڑے جو برسات آتے ہی بغیر ماں باپ ہوتے ہیں کیا وہ مسیح کے ساتھ خدائی کے حقدار نہیں؟ بلکہ ان کا زیادہ حق ہے کیونکہ مسیح کے متعلق تو کوئی شبہ بھی کر سکتا ہے کہ اس کا کوئی باپ بھی ہو مگر جس کی ماں بھی نہ ہو اُس پر کیا شبہ ہوسکتا ہے۔گو ہم مریم کو پاکباز و عصمت تاب سمجھتے ہیں پر دنیا کا منہ کون بند کرے اور یہودیوں کے الزامات کا جواب کون دے۔آٹھویں دلیل:۔آدم نے گناہ کیا اس وجہ سے اس کی تمام نسل میں گناہ کا بیج بویا گیا۔اور تمام انسان اس میں گرفتار ہوئے۔مسیح چونکہ آدم کی پشت سے نہیں تھا اس لئے وہ گنہگار نہ ہوا۔اور گناہ سے پاک صرف خدا ہے اس لئے مسیح خدا ہوا۔جواب:۔اس دلیل میں جس قدر بھی دعوے ہیں سب کے سب سرے سے ہی غلط ہیں۔نمبر وار سینیے:۔ا۔آدم کے گناہ کی وجہ سے اس کی نسل کا گنہ گار ٹھہر نا خدا کے عدل کے بالکل خلاف ہے۔کیا یہی عیسائیوں کے خدا باپ کا عدل ہے کہ باپ کے گناہ کرنے سے بیٹا گنہگار سمجھا جاوے؟ ۲۔جو آدم کی پشت سے ہو وہ گنہگا ر ہوتا ہے۔یہ بات بھی بالکل غلط ہے عقلاً بھی جیسا کہ اوپر ثابت کر آئے ہیں اور نقلا بھی۔اپنے گھر کی کتاب کو قا کھولئے گا۔باب ا آیت ۶۔وے دونوں خدا