مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 874
874 يُرِيدُ بِذَالِكَ نَفْسَهُ (بخاری کتاب المغازی باب حدیث نبی نضیر نیز تجرید بخاری مترجم اردو جلد ۲ صفحه ۲۴۵ روایت نمبر ۴۳۵ قصہ بنونضیر ) یعنی آنحضرت صلعم کی اس سے مراد صرف اپنا وجود تھا۔باقی انبیاء کی وراثت کے متعلق بیان کرنا مقصود نہ تھا۔(۲) قرآن مجید سے حضرت عائشہ صدیقہ کی اس تشریح کی تائید ہوتی ہے کیونکہ قرآن مجید سے ثابت ہے کہ انبیاء کا ورثہ ان کے ورثاء نے لیا اور انبیاء نے بھی اپنے باپ کا ورثہ لیا۔ملاحظہ ہو۔الف۔حضرت داؤدعلیہ السلام خدا کے نبی اور بادشاہ تھے۔آپ کی وفات کے بعد آپ کے بیٹے حضرت سلیمان علیہ السلام آپ کے وارث ہوئے۔تخت کے بھی اور نبوت کے بھی۔قرآن مجید میں ہے۔وَوَرِثَ سُلَيْمَنُ دَاوُدَ ( العمل : (۱۶) که حضرت سلیمان علیہ السلام وارث ہوئے حضرت داؤد کے۔گویا نبی (سلیمان) نے ورثہ لیا اور نبی ( داؤد ) کا ورثہ ان کے وارث نے حاصل بھی کیا۔چنانچہ حضرت امام رازی تحریر فرماتے ہیں:۔قَالَ قَتَادَةُ وَرَّتَ اللهُ تَعَالَى سُلَيْمَانَ مِنْ دَاوُدَ مُلْكَهُ وَ نُبُوَّتَهُ۔66 ( تفسیر کبیر زیر آیت وَدَاوُدَ وَسُليمنُ إِذْ يَحْكُمَن فِي الْحَرْثِ - الانبياء: ۷۹) یعنی حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کو حضرت داؤد کا ان کی حکومت اور نبوت دونوں کا وارث کیا۔پس حضرت سلیمان با وجود نبی ہونے کے اپنے باپ حضرت داؤد نبی کے دنیوی و دینی، جسمانی وروحانی میراث کے پانے والے ہوئے۔سلیمان نے ہزار گھوڑا ورثہ میں پایا۔نقص الانبیاء مصنفہ عبدالواحد قصہ حضرت سلیمان تفسیر خازن زیر آیت وَدَاوُدَ وَسُلَيْمَنَ إِذْ يَحْكُمَن فِي الْحَرْثِ الانبياء: ۷۹ ومعالم التنزيل زیر آیت ووَرِثَ سُلَيْمَنُ دَاوُدَ النمل : ١٦) ب۔اسی طرح حضرت امام رازی کی تفسیر کبیر جلد۲ صفحہ ۴۳۶ مطبوعہ مصر پر لکھا ہے کہ بنی اسرائیل کا ” تابوت سکینہ حضرت آدم علیہ السلام پر نازل فرمایا گیا اس میں سب نبیوں کی تصویر میں تھیں اور وہ اولاد آدم میں بطور ورثہ منتقل ہوتے ہوتے حضرت یعقوب تک پہنچا ( اصل عبارت ملاحظہ ہو زیر عنوان تصویر کھنچوانا‘ صفحہ ۸۶۹ پاکٹ بک ہذا۔) ثابت ہوا کہ یہ صندوق حضرت اسحاق کی وفات کے بعد ان کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام نے ورثہ میں پایا۔