مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 846
846 لئے منگوائی گئی۔کیونکہ یہ دوائی اسی موقع پر استعمال کی جاتی ہے۔پس اندر میں حالات بلا وجہ زبان طعن دراز کرنا انتہائی بدبختی ہے۔خصوصاً جبکہ ہم ثابت کر آئے ہیں کہ یہ شراب نہیں بلکہ ایک دوائی کا نام ہے۔اور اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ یہ دوائی کسی شراب فروش کی دکان سے نہیں ملتی۔بلکہ انگریزی دوائی فروشوں کی دکان پر سے ملتی ہے۔پس یہ ثابت ہے کہ ٹانک وائین شراب نہیں بلکہ دوائی ہے اور وہ دوائی بھی حضرت نے خود استعمال نہیں فرمائی لیکن غیر احمدیوں کے نزدیک تو خالص شراب کا استعمال بھی مندرجہ ذیل صورتوں میں جائز ہے۔ملاحظہ ہو:۔ا شراب میں تھوڑی سی ترشی آجائے تو پینا حلال ہے۔“ ( فتاوی ہندیہ ترجمہ فتاوی عالمگیری مطبع نولکشور بار دوم ۱۹۰۱ ء جلد ۴ صفحه ۴۰۶) ا گیہوں وجود شہد وجوار کی شراب حلال ہے۔“ (معین الہدایہ ترجمہ ہدایہ جلد ۲ صفحه ۳۹۸ مطبوعہ نولکشور بار اول ۱۸۹۶ء) چھوارے و منقی کی شراب حلال ہے۔“ مزدوری ترجمه قدوری صفحه ۲۴۳ مطبع مجتبائی دہلی بار دوم ۱۹۰۸ء) ۴۔” جس نے شراب کے نو پیالے پٹے اور نشہ نہ ہوا۔اور پھر دسواں پیا اور نشہ ہو گیا تو یہ دسواں پیالہ حرام ہے۔پہلے نو پیالے نہیں۔“ (غایۃ الاوطار ترجمه در مختار جلد ۴ صفحریم ۲۶ مطبع نولکشور بار چهارم ۱۹۰۰ء) ۵۔پیاسے کو شراب پینا ضرور تا جائز ہے۔‘ ( ایضاً جلد اصفحہ ۱۰۶) جو گوشت شراب میں پکایا گیا ہو۔وہ تین بار جوش دینے اور خشک کرنے سے پاک ہو جاتا ہے۔(ایضاً جلدا صفحہ ۱۰۷) (فتاوی ہندیہ ترجمہ فتاوی عالمگیری صفحه ۵۶ جلد او صفه ۱۳۴، صفحه ۴۰۷ منقول از حقیقۃ الفقه الموسومه به الاسم التاریخی افاضات الجدیدہ محبوب المطابع برقی پریس دہلی مصنفہ الحاج مولوی محمد یوسف صاحب جے پوری بر صفحات ۱۴۷، ۱۴۸، ۱۷۰،۱۶۹حصہ اوّل) ے۔علاوہ ازیں شرح وقایہ میں لکھا ہے کہ ”جو کوئی چیز مسکر مخلوط ہو وئے تو بناء بر مذہب امام صاحب درست ہے۔“ ( شرح وقایہ جلد۴ صفحه ۵۹ و کتاب الاشر یہ آخری سطر مترجم اردو۔موسومہ بہ نورالہدایہ جلدم