مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 842 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 842

842 مریض کو ہر چیز زرد ہی نظر آتی ہے۔باقی رہا دورانِ سر اور اس پر مذاق اول تو اس لئے کہ مسلم کتاب الفتن و اشراط الساعة باب خروج الدجال و نزول مسیح جلد۲ مصری کی حدیث میں ہے که مسیح موعود دو زرد چادریں پہنے ہوئے ہو گا۔یہ آپ کی صداقت کی دلیل ہے اور اس لئے بھی کہ ڈاکٹری کی رو سے دوران سردماغ کے اعلیٰ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔"The Subjects of Migraine are nearly always of an active capable and intelligant type۔" (A Text Book of The Practice of Medicine۔U۔W۔Migraine) یعنی دوران سر کے مریض قریباً ہمیشہ قابل اور عالی دماغ آدمی ہوتے ہیں۔“ باقی رہا سائل کا طرز استدلال۔سو وہ خود ہی اس کی غلطی پر گواہ ہے۔حضور نے کب کہا ہے کہ مجھے ہسٹیریا ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے بے شک حضرت اُم المومنین کی زبانی ہسٹیریا کا لفظ بولا ہے مگر ( اول ) آپ کوئی ڈاکٹر نہیں ہیں کہ جو ترجمہ دوران سرکا کیا ہے وہ درست ہو اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہسٹیریا کا مرض تھا۔پس تیسرا حوالہ جو معترض نے نقل کیا ہے وہ بھی بے فائدہ ہے۔نہ حضرت اپنی نسبت ہسٹیر یا تسلیم کرتے ہیں نہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ہسٹیریا کا ترجمہ مالیخولیا کرتے یا سمجھتے ہیں۔پس مخالف کا استدلال قطعاً باطل ہے۔ڈاکٹر شاہ نواز خان صاحب نے محولہ بالا رسالہ میں طبی نقطہ نگاہ سے ثابت کر دیا ہے کہ حضرت مسیح موعود کو قطعاہسٹیریا نہ تھا۔ہم نے جو انگریزی عبارتیں (VON KREMER) کی نقل کی ہیں ان میں وہ آنحضرت صلعم کی نسبت (EPILEPSY) کا لفظ استعمال کرتا ہے اور لطف یہ کہ مولوی ثناء اللہ نے حضرت مسیح موعود کی نسبت (CATALEPSY) کا لفظ استعمال کیا ہے اور انگریزی ڈکشنری میں دونوں کا ترجمہ ایک ہی بتایا گیا ہے۔تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ “ (البقرة: ١١٩) نوٹ۔اسی کتاب کے صفحہ ۱۸۵ وصفحہ ۱۸۸ پر VON KREMER(فان کریمر ) نے آنحضرت کی وفات کے متعلق ایسی گندی اور نا قابل بیان فحش نویسی کی ہے کہ ہم اسے یہاں انگریزی میں بھی نقل نہیں کر سکتے۔ان غیر احمدیوں کو جو حضرت مسیح موعود کی وفات کے متعلق مخش کلامی کیا کرتے ہیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔وہ اس قدر دل آزار ہے کہ حضرت مسیح موعود کے متعلق جو کچھ غیر احمدی کہا کرتے ہیں وہ دسواں حصہ بھی اس تحریر کے مقابلہ میں دل آزار نہیں۔