مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 838
838 يَمَلا جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التَّرَابُ “ (ترمذی کتاب المناقب ابی ابن کعب) اگر انسان کو ایک وادی مال و دولت سے بھر پور مل جائے تو اس پر بھی وہ ضرور دوسری وادی کا آرزومند ہوگا اور جب اس کو دوسری وادی بھی حاصل ہو جائے تو اس پر بھی وہ تیسری وادی کا خواہشمند ہوگا اور ( سچ تو یہ ہے کہ ) انسان کے پیٹ کو سوائے خاک کے اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی (یعنی قبر میں ہی جا کر اس کی حرص مٹتی ہے۔پس یہ کس طرح ممکن ہے کہ مہدی کے وقت میں یہ انسانی فطرت بدل جائے اور آنحضرت صلعم کا یہ فرمان غلط ہو جائے۔پس مہدی کے مال بانٹنے سے مراد وہ علوم آسمانی اور حقائق معارف کا خزانہ ہے جو مسیح موعود نے لوگوں کو دیا اور جس کو تمہارے جیسے بدقسمت قبول نہیں کرتے۔۳۔اس مال سے مراد وہ متعدد انعامات ہیں جو آپ نے اپنی مختلف کتابوں کے جواب لکھنے والوں کے لیے مقرر فرمائے۔مگر کسی کو ان کے قبول کرنے کی جرات نہیں ہوئی۔۴۔قرآن مجید میں ہے:۔الف - إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِمُوا بَيْنَ يَدَى نَجُوكُمْ صَدَقَةً (المجادلة: ۱۳) کہ اے مسلمانو! جب تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی مشورہ کرنے جاؤ تو کچھ چندہ بھی لے جایا کرو۔ب۔اِنَّ الله اشترى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبة: 1) کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کے مال اور ان کی جانیں خرید کر اس کے عوض ان کو جنت دے دیا ہے۔ج۔قرآن مجید میں سینکڑوں آیات انفاق فی سبیل اللہ کے متعلق ہیں۔۵۔الزامی جواب بخاری میں ایک نہایت دلچسپ حدیث ہے۔جس کے مطابق حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ بعض صحابہ کسی گاؤں میں بحالت سفر ٹھہرے اور اہل گاؤں سے دعوت طلب کی ،مگران لوگوں نے مہمانی سے انکار کیا۔اتنے میں اس قبیلہ کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا۔سب علاج کئے لیکن فائدہ نہ ہوا۔کسی نے انہیں کہا کہ گاؤں سے باہر جو لوگ (صحابہ) ٹھہرے ہوئے ہیں ان سے پوچھو۔شاید ان میں سے کسی کو کوئی علاج معلوم ہو۔چنانچہ جب وہ لوگ صحابہ کے پاس آئے تو ایک صحابی نے