مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 839
839 کہا ہاں میں دم کرنا جانتا ہوں۔مگر چونکہ تم لوگوں نے ہمیں مہمانی دینے سے انکار کر دیا تھا اس لئے اب بلا اُجرت علاج نہیں کروں گا۔اس پر ان لوگوں کے ساتھ ان کا معاوضہ چند بھیٹریں ، بکریاں مقرر ہوا۔اس صحابی نے قبیلہ کے سردار پر الْحَمْدُ للهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ پڑھ کر دم کیا جس سے وہ یکدم اچھا ہو گیا اور اس صحابی کو گاؤں والوں نے معاوضہ ادا کر دیا۔اس پر باقی صحابہ نے کہا اس معاوضہ میں ہمارا بھی حق ہے پس ہمارا حصہ بانٹ دو مگر وہ صحابی جنہوں نے دم کیا تھا کہتے تھے کہ چونکہ دم میں نے کیا ہے اس لئے یہ میرا ذاتی حق ہے کسی دوسرے کا اس میں حصہ یا دخل نہیں۔اس پر یہ فیصلہ ہوا کہ آنحضرت صلعم کے پاس چلتے ہیں جو فیصلہ حضور کریں۔آخر وہ سب اصحاب آنحضرت صلعم کے حضور پیش ہوئے۔حضور صلعم نے سب واقعہ سنا۔پھر اس دم کرنے والے صحابی سے مخاطب ہو کر فرمایا:۔وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ثُمَّ قَالَ قَدْ اَصَبْتُمُ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ سَهُما فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ 66 (بخارى كتاب الاجارة باب مَا يُعْطِى فى الرقية على أحياءِ العَرَب بفاتحة الكتاب) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تم کو کیسے معلوم ہوا کہ (سورۃ فاتحہ سے ) جھاڑ پھونک یا دم کیا جاتا ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا اب اس کو بانٹ لو اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی لگا دو۔“ یہ کہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے۔سوال یہ ہے کہ (۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا حصہ کیوں نکلوایا۔(۲) مسکرائے کیوں تھے؟ ۶۔اسی طرح بخاری کتاب الوكالة باب الوكالة في قضاء الديوان پر ہے کہ آنحضرت صلعم سے ایک شخص نے اپنا سابقہ قرض طلب کیا اور آپ سے جھگڑا کر کے سخت کلامی کی۔جس پر صحابہ اسے مارنے لگے مگر آنحضرت نے صحابہ کو اس سے منع فرمایا مگر اپنا قرض صحابہ سے ادا کروایا۔۱۸۔مراق مرزا صاحب نے لکھا ہے مجھے مراق ہے ( بد رجلد۲ نمبر ۲۳ صفحہ ۵ کالم نمبر۲۔۷ جون ۱۹۰۶ء) اور مراق کا ترجمہ ہے۔ہسٹیر یا بقول مرزا بشیر احمد صاحب (سیرۃ المہدی جلد اصفحہ ۱۳ مطبوعہ ۲۱ دسمبر ۱۹۲۳ء) اور